حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 33 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 33

حیات احمد ۳۳ جلد اول حصہ اوّل گرویدہ کیا کہ اسے سول وزارت سے علیحدہ کر کے جنگی وزارت اور سپہ سالاری کے عہدہ پر مقرر فرمایا۔قراچار نے اپنی قوم برلاس کو سمرقند کے جنوب کی طرف تخمینا ۳۰ میل کے فاصلے پر شہر کش کے گردونواح میں آباد کیا۔اس کے پوتے بر قال کے ہاں دو بیٹے ہوئے۔جو بجائے خود تقوی و طہارت میں اپنے زمانہ میں بے نظیر تھے۔ایک کا نام طرافے اور دوسرے کا نام حاجی برلاس تھا۔اور دونوں حضرت قدوۃ السالکین شیخ شمس الدین رحمتہ اللہ علیہ کے مرید تھے۔شیخ ایک مشہور بزرگ اور خدا رسیدہ تھے۔ان کی بہت سی کرامتیں مشہور ہیں۔حضرت صاحبقران تیمور کے متعلق لکھا ہے کہ جب طرافے کے ہاں فرزند پیدا ہوا۔تو حسن عقیدت سے دونوں بھائی مل کر بچے کو اپنے مرشد کے پاس لے گئے۔جب ان کے حضور پہنچے تو حضرت شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ تلاوت میں مصروف تھے۔اور اُس وقت سورۃ الملک کی یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ا مِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يُخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ (الملك : ۱۷) بچے کو دیکھتے ہی فوراً فرما دیا کہ اس کا نام تیمور یعنی دنیا میں انقلاب پیدا کرنے والا رکھو۔حضرت صاحبقران تیمور کا نام اس وقت حضرت شمس الدین نے گویا ان حالات اور واقعات کو کشفی رنگ میں دیکھتے ہوئے رکھ دیا جو آئندہ اس عظیم الشان انسان سے ظاہر ہونے والے تھے۔اور دنیا کی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ فی الحقیقت وہ بچہ دنیا میں ایک عظیم الشان انقلاب کا موجب ہوا۔اگر چه طرافے بجائے خود ایک نیک اور دیندار مرد خدا تھا لیکن حاجی برلاس کو کیا بلحاظ تقوی وطہارت اور کیا بلحاظ جود و کرم بڑی شہرت حاصل تھی۔اور اس کی شہرت کا زیادہ تر باعث حلیمہ خاتون تھی جو پرلے درجہ کی پارسا اور کریم النفس اور رحم دل اور بڑی لائق خاتون تھی۔اور اپنے شوہر کی وفادار رفیق اور جاں نثار مشیر تھی۔کش کی حکومت حاجی برلاس کے حصہ میں تھی اور دوسرا حاجی برلاس کی اطاعت کرتا تھا۔لیکن جب تیمور نے زور پکڑا۔تو حضرت شمس الدین رحمتہ اللہ علیہ کی پیشگوئی کے موافق ایک انقلابی سلسلہ شروع ہو گیا اور تیمور نے کش کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔اور حاجی برلاس وہاں سے نکل جانے پر مجبور ہوا یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔دنیوی سلطنتوں اور حشمتوں میں اس قسم کے