حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 35 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 35

حیات احمد ۳۵ جلد اوّل حصہ اوّل کے انعام کو بنی اسرائیل کے متعلق بیان کیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو مثیل موسیٰ تھے کی غلامی میں بھی اس انعام سے جو بہرہ اندوز ہونے والے تھے۔چنانچہ دنیوی حکومت اور سلطنت تو اس وقت اس کو ملی۔اور جَعَلَ فِيْكُمُ انْبِيَاءَ والے انعام سے وہ آخری زمانہ میں سعادت اندوز ہونے والی تھی۔اور یہ مقدر ہو چکا تھا کہ وہ سب سے بڑا ربانی فضل جو روحانی بادشاہت کے رنگ میں مہدی مسعود اور مسیح موعود کے وجود میں ہونے والا تھا۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسی قوم کو منتخب اور برگزیدہ کیا۔اور ازل سے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ آخری زمانہ کی گمراہی اور ضلالت کے وقت جو گم گشتگان حقیقت کو راہ راست دکھائے گا۔مرزا ہادی بیگ کی نسل سے ایک مہدی ہوگا جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کلام میں سلمان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا کہ اگر ایمان ثریا پر چلا جائے گا تو ایک فارسی الاصل اُسے واپس لائے گا۔پس اس طرح پر یہ ہدایت کا فضل اسی گھرانے کے ساتھ مخصوص ہو چکا تھا جس طرح پر ایک بھائی کی اولا د یعنی تیمور کا الہامی نام اپنے معانی کے لحاظ سے دنیا کے تمدنی انقلاب کا موجب ہوا تھا۔اُس کے رگ وریشہ میں انقلابی اجزاء بھرے ہوئے تھے۔اسی طرح دوسرے بھائی کی اولاد سے ایک معزز و مقتدر فرزند ہادی بیگ کا نام اشتقاق ھدی سے بن کر ہدایت عالم کے روحانی انقلاب کا پیش خیمہ ہوا۔سیح موعود کے مورث اعلیٰ کی ہجرت حضرت مرزا ہادی بیگ علیہ الرحمۃ علم و فضل اور تفقہ فی الدین اور پرلے درجہ کی فیاضی طبع اور شجاعت اور عدل و داد اور علم دوستی کے لئے اپنی قوم و رعایا میں ممتاز اور مُشَارٌ إِلَیہ تھے۔ان کے تقوی وطہارت اور جوش و اخلاص دین کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ان کو عظیم الشان انسان کا باپ بننے کے لئے چن لیا تھا جو اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں کا موعود تھا۔اور پہلے نوشتوں میں جس کو بڑے بڑے خطابوں سے یاد کیا گیا تھا۔حضرت مرزا ہادی بیگ صاحب اپنے ملک میں ایک معزز و ممتاز صاحب حکومت تھے۔مگر ان اسباب کا کوئی پتہ نہیں ملتا جن کے اثر کے نیچے انہوں نے اپنے وطن کو الوداع کہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ