حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 418
حیات احمد ۴۱۸ جلد اول حصہ سوم پر نہیں چلے گا۔اس قسم کی تقریبوں نے حضرت کو صلیبی فتنہ سے پورے طور پر واقف کر دیا تھا۔اگر چہ آپ نے بہت عرصہ سے عیسائی فتنہ کے اثر کو محسوس کیا تھا۔اور بہت چھوٹی عمر میں میزان الحق پڑھی تھی۔اور جن ایام میں آپ بٹالہ پڑھ رہے تھے انہیں ایام میں بھی آپ نے ان کتابوں کو جو عیسائیوں اور آریوں نے اسلام کے خلاف لکھی تھیں پڑھا تھا۔اور اسلام کے لئے ایک غیور فطرت رکھتے ہوئے ان پر بحث کیا کرتے تھے۔تحفۃ الہند۔خلعت ہنود وغیرہ کتابیں بھی ان ایام طالب علمی ہی میں آپ کے زیر مطالعہ رہ چکی تھیں۔غرض آپ کے شب و روز اسلام کی حمایت اور اس کی تائید میں عملاً اور علماً صرف ہو رہے تھے اور کوئی موقع اور فرصت ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے جس میں اسلام کی خدمت ہو سکے۔چونکہ بقیہ حاشیہ:۔بعض صاحبوں کو میں نے یہ کہتے سنا ہے کہ اگر چہ خدا فی الحقیقت بے انت ہے۔اور اس کی ملک اور قدرت کو زمانہ گزشتہ میں محصور کرنا سچ سچ غلطی ہے کہ جس سے اس کی قدرت بے انت نہیں رہ سکتی اور ماننا پڑتا ہے کہ جو ملک اس کا ہمیشہ اندر اندر ایک مقررہ تعداد کے ہے۔لیکن جب کہ یہی ہمارے مذہب کا اصول ہے تو پھر ہم کس طرح اس کو چھوڑ دیں۔پس واضح ہو کہ یوں تو ہر کسی کا اختیار ہے کہ جس بات پر چاہے جمار ہے۔کوئی مزاحم اور مانع نہیں۔لیکن کسی عاقل کو اس امر سے انکار نہ ہو گا کہ جب کوئی غلطی اپنی ثابت ہو جائے تو اس کا چھوڑ نا ہی بہتر ہے اسی کو دھرم کہتے ہیں۔اور یہی تو بھگتوں کا اور پہلے لوگوں کا کام ہے۔قوله۔جو معترض صاحب نظیر دیتے ہیں کہ اگر ہم کسی جگہ چار جیو بیٹھے ہوں۔تو جب ایک جیو اٹھ جائے گا تو تین جیو رہ جائیں گے۔سو وہ خود اپنی نظیر سے قائل ہو سکتے ہیں۔کیونکہ جب چار ہوئے تو وہ بے انت نہ رہے۔معدود ہو گئے۔کیونکہ جب ایک چیز غیر معدود ہے تو اس کی کمی بیشی کیسے ہوسکتی ہے۔اقول۔حضرت قائل ہونا تو آپ کے خواص میں سے ہے۔معترض بیچارے کو یہ حق نہیں پہنچتا معترض نے تو اول معدود ہونا ارواح کا ثابت کر دیا۔پھر یہ مثال بھی تقریباً سلفہم لکھ دی تو پھر اب