حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 419
حیات احمد ۴۱۹ جلد اول حصہ سوم ذاتی طور پر شہرت اور نمود مقصود نہ تھا۔اس لئے دوسروں سے کام لے لیتے جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ بعض مضامین شیخ رحیم بخش صاحب کے نام سے چھپوا دیتے ان کولکھوا دیتے اور ان کی طرف سے اخبارات میں چھپ جاتے یا منشی نبی بخش صاحب پٹواری سے کام لیتے تھے۔اس سے دوسروں میں شوق پیدا کرنا بھی زیر نظر تھا۔حضرت نے اس فتنہ صلیب کو محسوس کیا ہوا تھا۔اور آپ کو اس قدر جوش اس فتنہ کے دور کرنے اور صلیبی غلبہ کو پاش پاش کرنے کے لئے تھا کہ میرزا سلطان احمد صاحب کہتے ہیں کہ اگر سارے جہان کا جوش ایک طرف ہو۔اور حضرت والد صاحب مرحوم کا ایک طرف تو اُن کا پلڑا بھاری ہو گا۔اور اس کے لئے آپ کی پرانی تحریریں شاہد عدل ہیں اور آپ کی زندگی واقعات کا آئینہ۔بقیہ حاشیہ بھی اگر آپ نہ سمجھتے تو معترض کا کیا قصور ہے۔اور نیز معترض کے ایراد اس مثال سے ایک یہ بھی غرض تھی کہ بموجب علم طبعی کے ایک دلیل قائم کر کے آپ کا اقرار مخفی ظاہر کرے۔کیونکہ بموجب اصول آریہ سماج کے سب ارواح متحد النوع والخواص ہیں۔پس جب آپ نے بچشم خود دیکھ لیا جو بعض ارواح جو شہروں اور بستیوں اور قصبوں اور دیہات میں سکونت رکھتے ہیں اُن میں قابلیت معدود ہونے کی پائی جاتی ہے۔تو پھر یہ کہنا کہ یہ قابلیت دوسرے روحوں سے مقصود ہے۔اپنے مادہ علمی کا وزن دکھلانا ہے۔اگر آپ کو کچھ علم حکمت اور منطق کا ہوتا۔تو آپ فی الفور سمجھ لیتے کہ جب متحد النوع مان لیا تو پھر متحد الخواص ہونے سے انکار کرنا ایسا ہے کہ جیسے ایک شخص ایک قوم کے انسان ہونے کا تو قائل ہے مگر ان کے ناطق ہونے کا قائل نہیں۔صاحب من خواص کسی چیز کے کبھی اس سے منفک نہیں ہو سکتے۔اگر انادی اور بے انت ہونا مثل ذاتِ باری کے خاصہ ارواح کا ہو تو کسی حالت میں یہ خاصہ اُن سے منفک نہ ہو سکے گا جیسے خدا کسی حالت میں بے انت ہونے سے بدل کر محدود نہیں بن سکتا۔نہ کوئی صفت اس کی محدود ہوسکتی ہے۔