حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 414
حیات احمد ۴۱۴ جلد اول حصہ سوم غرض منشی نبی بخش صاحب پٹواری عیسائیوں کے اعتراضات لاتے اور اُن کے جوابات دریافت کر کے اور اچھی طرح تیار ہو کر جاتے اور بٹالہ کے پادریوں سے مباحثات کرتے جن میں پادری صاحبان نہایت خفیف ہوتے۔انہی ایام میں بٹالہ کے ایک شخص مولوی قدرت اللہ نام عیسائی ہو گئے۔منشی نبی بخش صاحب نے آ کر خبر دی تو آپ کو اس کے سننے سے طبعی طور پر تکلیف پہنچی۔کہتے تھے کہ دیر تک آپ تاکید کرتے رہے کہ اسے سمجھاؤ اور اگر میری ضرورت ہوئی تو میں خود وہاں جانے کو طیار ہوں۔لیکن منشی نبی بخش صاحب کہتے تھے کہ میں نے عرض کیا کہ یہ قبول عیسائیت حق پژوہی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی تہ میں بعض دنیوی اغراض ہیں۔تو فرمایا کہ اگر کوئی مالی مدد دینی پڑے تو چندہ کرلو۔میں بھی شریک ہو جاؤں گا۔اس کے نام کے ساتھ مولوی کا لفظ ہے۔عوام پر اس کا بُرا اثر پڑتا ہے۔بہر حال آپ نے منشی نبی بخش صاحب کو تاکید کی کہ جس طرح ممکن ہو اسے سمجھا بقیہ حاشیہ سے چلے آتے ہیں۔سو اس کے جواب الجواب میں یہ عرض ہے کہ اگر حیوانات کے حالات میں آثار حاجت مندی کے نمودار نہ ہوتے اور اُن کو ہم تحصیل ضرورات اور دفع آفات اور کسب کمالات میں محتاج بالغیر نہ پاتے تو اس وقت یہ آپ کی تقریر بھی قبول کر لیتے۔جبکہ کوئی چیز ہم کو بجز پاک پروردگار کے داغ احتیاج سے مبرا نہیں معلوم ہوتی تو ہم یہ آپ کی تقریر کس طرح قبول کریں۔بھلا جن چیزوں کو چاروں طرف سے حاجت مندی اور خواری اور عاجزی نے گھیرا ہوا ہے۔وہ چیزیں کس منہ اور لیاقت سے کہہ سکتی ہیں جو ہم اپنے وجود میں کسی خالق کی محتاج نہیں۔بلکہ ہم بھی مثل خالق کے قدیم ہیں۔یقینا اگر کوئی اپنے روح کو آپ ہی مخاطب کر کے اس سے مخلوق یا قدیم ہونے کا سوال کرے تو اپنی وجدانی حالت میں یہی جواب پاوے گا جو میں ایک ضعیف بندہ مخلوق ہوں اور سراسر محتاج اور سایہ قدرت کے نیچے زندہ ہوں اور اپنی آمدورفت میں بالکل ایک غالب قادر کا مقہور ہوں۔لیکن پاک دلی اور روشن باطنی شرط ہے۔سواے حضرات ہم کس قوت اور زور سے اپنے مالک حقیقی کی طرح انادی اور قدیم بن سکیں۔اور کس خوبی اور ہنر سے یہ بات منہ پر لاویں کہ خدا ہم سے پہلے نہیں۔کہاں خالق اور کہاں ہم بیچارے ذلت کے مارے۔وہ قوی ہے اور ہم ضعیف ہیں۔وہ بے انت ہے اور ہم چھوٹے چھوٹے اندازوں میں