حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 413 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 413

حیات احمد ۴۱۳ جلد اول حصہ سوم کے پھندے میں پھنس چکا ہو یا جس پر ایسا محبہ ہو کہ وہ اُس پر یہ ڈورے ڈال رہے ہیں تو اس کو ہمیشہ تحقیقی جواب پہلے دو۔اور اس پر مقابلہ کر کے دکھاؤ کہ اسلام اور عیسائیت کی تعلیم میں کیا فرق ہے۔ایسے لوگوں کو اگر الزامی جواب پہلے دیا جائے تو وہ یہ ٹھوکر کھا سکتے ہیں کہ حقیقی جواب کوئی نہیں۔نورافشاں آپ با قاعدہ منگواتے اور اس میں کئے ہوئے اعتراضات کے جوابات کبھی اپنے نام سے اور کبھی دوسروں سے بھی لکھوا دیتے تھے چونکہ شہرت سے نفرت تھی۔اور کبھی یہ مقصد بھی ہوتا تھا کہ لوگ آپ کے مضامین کے زور قلم سے واقف تھے۔اس لئے کبھی دوسروں سے لکھوا دیتے تا کہ کوئی دوسرے نام پر بھی جواب دے۔اس غرض کے لئے آپ کبھی شیخ رحیم بخش صاحب والد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے نام سے بھی چھپوا دیتے تھے۔بقیہ حاشیہ:- تمیز باقی نہیں رہی۔تو آپ ہم سے بحث کیا کریں گے۔مناسب ہے کہ اس تنگ حالت میں سوامی جی سے مدد مانگیں کہ وہ آپ کے سماج افسر ہیں۔اور ہمیشہ تحصیل علمی اپنی چوداں ودیان بتلاتے ہیں اس سے کم نہیں۔اور کیا مجال ہے جو اُن کے روبرو کوئی اتنا بھی کہہ سکے جو دنیا میں کوئی اور بھی پنڈت ہے۔اگر وہ اس وقت ہمارے جواب نہ دیں تو پھر کب آپ کے کام آدیں گے۔ان کا پنڈت ہونا کس مرض کی دوا ہوگا۔اب میں پھر آپ کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔اس خیال سے کہ شاید پہلا بیان آپ کا جو ارواح مخلوق ہیں بباعث ظاہر داری یا بطور سہو یا عادت کے حوالہ قلم ہو گیا ہو۔اور اصل اعتقاد آپ کا یہی ہو جو خدا نے کچھ پیدا نہیں کیا اور دنیا کا کوئی خالق ہی نہیں۔سواگر حال یہ ہے۔تو اس کا وہی جواب ہے جو دہر یہ مذہب والوں کو دیا جاتا ہے۔اور وہ جواب یہ ہے کہ دنیا میں ہم کوئی مصنوع نہیں دیکھتے جس کا کوئی صانع نہ ہو۔ایک چھوٹا سا مکان بھی بغیر بنانے والے کے اپنے آپ بن نہیں سکتا۔پھر اتنا بڑا مکان جس کو عالم کہتے ہیں بغیر صانع کے کس طرح خود بخود بن گیا۔شاید کوئی اس جگہ یہ جواب دے کہ جس طرح باری تعالیٰ کو بغیر بنانے والے کے خود بخو د قدیم سے موجود سمجھتے ہو اسی طرح ارواح کو بھی سمجھنا چاہئے جو بغیر پیدا کر نے کسی خالق کے ہمیشہ