حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 412
حیات احمد ۴۱۲ جلد اول حصہ سوم لازمی حرارت۔چونکہ لوگ گالی اور سچ کی لازمی حرارت میں بعض اوقات فرق نہیں کرتے۔اس لئے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں۔منشی نبی بخش صاحب کہتے تھے کہ حضرت مجھ کو عیسائیوں کے اعتراضات کے جوابات دو قسم کے دیا کرتے تھے۔الزامی اور تحقیقی۔الزامی جوابات کے متعلق آپ کا ارشاد یہ ہوتا تھا کہ جب تم کسی جلسہ عام میں پادریوں سے مباحثہ کرو تو ان کو ہمیشہ الزامی جواب دو۔اس لئے کہ ان لوگوں کی نیت نیک نہیں ہوتی۔اور لوگوں کو گمراہ کرنا اور اسلام سے بدظن کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر حملہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔پس ایسے موقع پر الزامی جواب ان کے منہ کو بند کر دیتا ہے۔اور عوام جو اس وقت محض تماشے کے طور پر جمع ہو جاتے ہیں۔ایسے جواب سے متاثر ہو کر ان کے فریب میں نہیں آتے۔لیکن اگر کسی ایسے شخص سے گفتگو کر و۔جو اُن بقیہ حاشیہ:۔تو کہتے ہی اسی کو ہیں۔جو از منہ ثلاثہ میں سے کسی زمانہ سے تعلق رکھتا ہو۔پس جس حالت میں فعل کی یہ تعریف ہو دے۔اور خدا کی وہ شان جو ہر زمان اور مکان کے قید سے منزہ اور پاک ہے پھر کس طرح کوئی دانا کہہ سکتا ہے جو ارواح بھی مثل خدا کے انادی ہیں۔صاحب من ! جب آپ نے یہ تسلیم کر لیا جو کل ارواح اُس خالق کا ایک فعل ہیں تو پھر مثل اور افعال کے ان کو کسی زمانہ سے مقترن کرنا چاہیئے۔دیکھو آپ لوگ یہ فرمایا کرتے ہیں کہ اس سرکتی کی رچی کو اتنے ارب ہو گئے۔پس آپ نے جب کہ ایک فعل خدا کو مقرون بزمان کر دیا تو کاش اس میں بھی سمجھا ہوتا کہ یہ بھی اسی خدا کا فعل ہے۔میں بڑی سوچ میں ہوں جو اول آپ نے کس منہ سے یہ فرمایا تھا جو ارواح فعل خدا کا اور اس کی مخلوق ہیں۔اور اب یہ دعویٰ کس زبان سے کر رہے ہیں جو کسی وقت سلسلہ پیدائش ارواح کا خدا کی طرف منتہی نہیں ہوا۔کیا آپ کے نزدیک اجتماع نقصان بھی جائز ہے۔اگر سمجھ کا یہی حال ہے تو ہم نے یونہی وقت عزیز آپ کے مقابلہ میں ضائع کیا۔جناب من یہ علمی بحث ہے۔اس میں بڑا ذہن ثاقب اور فکر صائب درکار ہے کچھ متفرقات کی مثلیں نہیں کہ یونہی کچھ اناپ شناب لکھ کر داخل دفتر کر دیں اور پھر چھٹی ہوئی۔جب کہ آپ پر باعث فقدان سرمایہ علمی کے یہ مصیبت نازل ہے جو اپنے بیانات کے تناقض میں