حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 411
حیات احمد ۴۱۱ جلد اول حصہ سوم لیتے۔یہاں تک کہ پورے طور پر وہ طیار ہو کر جاتے اور پھر عیسائیوں سے مباحثہ کرتے۔میاں نبی بخش صاحب کہتے تھے کہ حضرت کے پاس مرزا پور کی چھپی ہوئی بائبل تھی۔اور آپ نے اس کو کئی مرتبہ پڑھا تھا۔بعض اوقات خود بائبل پر نشان کرتے یا الگ حوالہ جات لکھتے تھے۔اور میں اُن کو خوب یاد کر لیتا۔اور لکھ لیتا۔منشی نبی بخش صاحب کہتے تھے کہ میری طبیعت بہت تیز واقع ہوئی تھی۔اور میں نے (عرفانی) سالوں ان کو دیکھا ہے۔اور یہاں قادیان میں اکثر ان سے مذاکرے ہوتے رہتے تھے۔یوں اُن کی طبیعت میں دھیما پن تھا۔لیکن جب وہ مذہب کے متعلق کسی معترض کو جواب دیتے تو عموماً طبیعت میں جوش ہوتا اور زبان پر ایسے الفاظ جاری ہوتے جن کو عرفی تہذیب میں گالی کہا جا سکتا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قسم کی مذہبی غیرت تھی۔اور سچ کی بقیہ حاشیہ: - کیونکہ قدرت تو اسی کا نام ہے کہ عقل اس کے اسرار تک نہ پہنچ سکے۔اگر قدرت میں یہ بھی شرط ہے کہ زید عمرو کی عقل سے زیادہ نہ ہو۔تو بس پھر قدرت ہو چکی۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ اگر خدا اپنی بزرگی اور جلال اور کامل ذات کے برخلاف کوئی کام نہیں کرتا۔اور ایسے امر کی طرف متوجہ نہیں ہوتا جو اس کی صفت الوہیت اور پاک شان کے برخلاف ہو۔اسی واسطے یہ بات کہنا کہ وہ اپنے قتل نفس اور ایجاد شرک خدائی پر قادر ہے یا نہیں محض نادانی اور سراسر جہالت ہے۔اور سوا ایسے امور کے جو اس کے اوصاف خداوندی کے برعکس ہوں اور سب حالات میں خدا قادر مطلق ہے۔اور انہی باتوں سے تو وہ خدا ہے۔اور یہی تو اس کی بلندشان کی خصوصیت ہے۔اگر یہی نہ ہو تو وہ خدا کا ہے کا ہے۔اور نیز یہ بات بھی ظاہر ہے کہ اگر وہ جل شانہ کسی وقت میں اپنے ارادہ اور اختیار سے خالق اس قدر مخلوقات کا ہو چکا ہے تو اب بھی ہو سکتا ہے جس طرح پہلے پیدا کیا تھا اب بھی وہی قدرت اس کے پاس ہے اور وہی حکمت اس کو یاد ہے۔مجیب صاحب جو اپنے دعویٰ پر یہ دلیل لاتے ہیں کہ جب فعل کے فاعل کا آغاز معلوم نہیں تو فعل کا آغا ز یا انجام کیونکر معلوم ہو سکتا ہے۔یہ وہ خیال ہے کہ جس سے ہم کو ان کی تعلیم یابی کا آغاز انجام معلوم ہو گیا ورنہ جس لڑکے نے ایک چھوٹا سا قاعدہ صرف کا پڑھا ہو۔وہ بھی اس بات سے باخبر ہو گا کہ فعل