حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 32
حیات احمد ۳۲ جلد اوّل حصہ اول میں خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے نمک حلال رہا۔غلام مرتضی جو ایک لائق حکیم تھا ۱۸۷۶ء میں فوت ہوا۔اور اس کا بیٹا غلام قادر اس کا جانشین ہوا۔غلام قادر حکام مقامی کی امداد کے لئے ہمیشہ تیار رہتا تھا اور اس کے پاس اُن افسران کے جن کا انتظامی امور سے تعلق تھا بہت سے سرٹیفکیٹ تھے۔یہ کچھ عرصہ تک گورداسپور میں دفتر ضلع کا سپرنٹنڈنٹ رہا۔اس کا اکلوتا بیٹا کم سنی میں فوت ہو گیا۔اور اس نے اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنی کر لیا۔جو غلام قادر کی وفات یعنی ۱۸۸۳ء سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا ہے۔مرزا سلطان احمد نے نائب تحصیلداری سے گورنمنٹ کی ملازمت کی۔اور اب اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر ہے۔یہ قادیان کا نمبر دار بھی ہے۔“ غرض یہ تمام واقعات ایک متفقہ شہادت اس امر کی ہیں کہ حضرت مسیح موعود جن سے مراد اس کتاب میں مرزا غلام احمد صاحب سے ہے۔فارسی الاصل تھے۔اور نسبی سلسلے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔قوم بر لاس حضرت مسیح موعود کے خاندان کے متعلق ایک تاریخی بحث حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغلوں کی مشہور قوم بر لاس کی یادگار ہیں۔چنانچہ آپ نے اپنی متعدد کتب میں اس کا متعدد مرتبہ ذکر کیا ہے فرماتے ہیں۔” ( اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے۔کتاب البریۃ صفحہ ۱۳۴) اور برلاس ایک مشہور اور معزز قوم مغل کی ہے جس میں تیمور جیسے نامور فاتح اور صاحب ہمت و استقلال کشور کشا گزرے ہیں۔اس قوم کا مورث اعلیٰ قرا چار نامی تھا۔جو چھٹی صدی ہجری کے قریب گزرا ہے۔یہ شخص نہایت نیک طینت اور پاک منش اور خدا پرست تھا اور یہ پہلا شخص تھا جو اپنی قوم میں سے حلقہ اسلام میں داخل ہو کر اس قوم میں اشاعت اسلام کا باعث ہوا۔جان ملکم اور مارخم جیسے متعصب مؤرخین نے بھی قراچار کی بڑی تعریف کی ہے۔یہ شخص پہلے چغتائی کا وزیر تھا۔مگر اس کی جوانمردی اور شجاعت نے بادشاہ کو ایسا