حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 31
حیات احمد ۳۱ جلد اول حصہ اوّل رہے۔اور آخر کا راپنی تمام جا گیر کو کھو کر عطا محمد بیگووال میں سردار فتح سنگھ اہلو والیہ کی پناہ میں چلا گیا اور سال تک امن و امان سے زندگی بسر کی۔اس کی وفات پر رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیہ مسل کی تمام جا گیر پر قابض ہو گیا تھا۔غلام مرتضی کو واپس قادیان بلا لیا تھا اور اس کی جڑی جاگیر کا ایک بہت بڑا حصہ اُسے واپس دے دیا۔اس پر غلام مرتضیٰ اپنے بھائیوں سمیت مہا راجہ کی فوج میں داخل ہوا اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات انجام دیں۔نونہال سنگھ ، شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دور دورے میں غلام مرتضی ہمیشہ فوجی خدمت پر مامور رہا ۱۸۴۱ء میں ایک کمیدان بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ہزارے کے مفسدے میں اس نے کار ہائے نمایاں کئے۔اور جب ۱۸۴۸ء کی بغاوت ہوئی تو یہ اپنی سرکار کا نمک حلال رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔اس موقع پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے اچھی خدمات کیں۔جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج کے دیوان مول راج کی امداد کے لئے ملتان کی طرف جارہا تھا تو غلام محی الدین اور دوسرے جاگیرداروں لنگر خاں۔ساہی وال اور صاحب خان ٹوانہ نے مسلمانوں کو بھڑ کا یا اور مصر صاحبدیال کی فوج کے ساتھ باغیوں سے مقابلہ کیا اور ان کو شکست فاش دی۔ان کو سوائے دریائے چناب کے کسی اور طرف بھاگنے کا راستہ نہ تھا۔جہاں چھ سو سے زیادہ آدمی ڈوب کر مر گئے۔الحاق کے موقع پر اس خاندان کی جاگیر ضبط ہوگئی۔مگر ۷۰۰ روپے کی ایک پنشن غلام مرتضی اور اس کے بھائیوں کو عطا کی گئی۔اور قادیان اور اس کے گرد ونواح کے مواضعات پر ان کے حقوق مالکانہ رہے۔اس خاندان نے غدر ۱۸۵۷ء کے دوران میں بہت اچھی خدمات کیں۔غلام مرتضی نے بہت سے آدمی بھرتی کئے۔اور اس کا بیٹا غلام قادر جنرل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت تھا جبکہ افسر مذکور نے تریموگھاٹ پر نمبر ۴۶ نیو انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے تہ تیغ کیا۔جنرل نکلسن صاحب بہادر نے غلام قادر کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا ہے کہ ۱۸۵۷ء