حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 406 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 406

حیات احمد ۴۰۶ جلد اول حصہ سوم کی دلچسپی کا موجب ہوں گے۔گر ترا رحم آں یگاں بکشد دولتت سوئے شاں عناں بکشد زیں جماعت اگر جدا رفتے در نخستین قدم ز پا رفتے وائے آں دور ماندہ زمیں بستاں باز مانده بدشت بر دزداں وائے آں بد نصیب و بے دولت که ندید است این چنیں صحبت گر درین راه بر شتافته آنچه زو یافتم نیافتے بست نرمی سر شمائل پاک خاک شو پیش از اں کہ گردی خاک یہ شوق اور جوش آپ کو كُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ پر عمل کرنے کے لئے تھا۔خلاف شرع حرکات اور بقیہ حاشیہ:- کے بیان سے یہ ایک نیا عقدہ حل ہوا۔جو آپ نے نقیضوں کو بھی جمع کر ڈالا اور ہم کو اس سپیچ میں ایک اور بات ہاتھ لگی۔اور وہ یہ ہے کہ جبکہ باقرار آریہ صاحبوں کے قدرت پیدا کرنے کی پر میشر میں انادی ہے۔اور دوسری طرف اُن کا یہ بھی اقرار موجود ہے کہ جو چیز انا دی ہو اس کا انت بھی نہ ہوگا۔پس اُن کا یہ قول کہ اب خدا کو روحوں کے پیدا کرنے کی طاقت نہیں اس قول کے مساوی ہوگا کہ قدرت پر میشر کی انادی نہیں ہے۔حالانکہ پہلے یہ اقرار کیا تھا کہ انادی ہے۔سبحان اللہ ہمارے مجیب صاحبوں کی کیا عمدہ تقریر ہے کہ جس کی نفی مستلزم اثبات اور اثبات مستلزم نفی ہے۔شائد یہ وہ ہی منطق ہے کہ جس کی تحصیل کے واسطے باوا نرائن سنگھ صاحب نے ہم کو ہدایت کری تھی۔سو ہم ایسی منطق کو دور سے سلام کرتے ہیں۔یہ آریہ صاحبوں کو ہی ترجمہ: اگر تجھے واحد خدا کی رحمت اپنی طرف کھینچے اور تیری قسمت اس کی طرف متوجہ ہو (۴) اگر تو ایسی جماعت سے جدا ہو جائے تو تیرا پہلا قدم ہی پھسل جائے گا (۳) افسوس ان لوگوں پر جو اس باغ سے دور ہیں اور دیران صحرا میں بھٹک رہے ہیں افسوس اس بد قسمت تہی دست پر کہ جس نے ایسے لوگوں کی صحبت اختیار نہیں کی ) اگر وہ اس راہ کو عقل سے ڈھونڈتے تو جو کچھ میں نے حاصل کیا ہے وہ حاصل نہ کر سکتے (۴) نرمی خدا کی صفات کا سر چشمہ ہے اس لئے قبل اس کے کہ تو خاک ہو جائے خاکساری اختیار کر۔