حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 407
حیات احمد ۴۰۷ جلد اول حصہ سوم غیر مسنون اوراد و وظائف سے آپ کو نفرت تھی۔اور ایسے لوگوں کو آپ تک رسائی نہ ہوتی تھی بلکہ بعض اوقات ان لوگوں کو خطرناک سمجھ کر نکلوا دیا کرتے۔جیسا کہ ایک ہندو سادھو کو قادیان سے نکلوانے کا میں نے لکھا ہے :- طالبان حق کی خدمت کا جوش ان ایام میں بھی بعض لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کرتے تھے۔اس لئے کہ آپ کی خلوت نشینی اور گوشہ گزینی اور عبادت کا شہرہ ارد گرد پھیل رہا تھا۔ایسی حالت میں اگر کوئی شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ نہایت محبت اور اخلاص سے اس کی مہمانداری کرتے اور مناسب موقعہ نصیحت و تبلیغ فرماتے۔عام طور پر اس وقت آپ کا معمول یہ تھا کہ ہر ایسے شخص کو بقیہ حاشیہ: - مبارک رہے۔اب تمہ اس تقریر کا کہ کچھ باقی رہ گیا تھا۔بیان کرتا ہوں۔واضح ہو کہ اگر چہ خدا میں قدرت پیدا کرنے کی ہمیشہ سے موجود ہے۔مگر اس قدرت کا حیز فعل میں لانا انادی نہیں ہے۔کیونکہ فعل قدرت کے بعد ہوتا ہے۔اور انادی چیزوں میں فعل بعد متصور نہیں۔اور علاوہ اس کے اگر چہ طاقت ایجاد کی ذات باری میں ایک قدیمی صفت ہے۔پھر ہمیشہ پیدا کرنا اُس پر خواہ مخواہ فرض نہیں تھا۔اور نہ آرزو کسی برہان منطقی کی قدرت مستلزم آفرنیش ہے اور خود یہ بات أجلسی بدیہات ہے کہ پر میشر اُس وقت پیدا کرتا ہے کہ جب اس کی ارادت اور خواہش ہو۔یہ نہیں کہ پیدا کرنا اس کی ذات سے بے اختیار لازم وملزوم ہے۔بلکہ ظہور فعل کا اُس کی مرضی پر موقوف ہے جب چاہے کرے اور جب چاہے نہ کرے۔بہر حال صفت کو صانع سے تأخر ہے۔توانادی ہونا کہاں ثابت ہے۔اور علاوہ اس کے جیسا وہ پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے ویسا ہی پھر فنا اور نابود کرنے کی بھی طاقت رکھتا ہے۔غرض وجود اور فنا آدمی اور سب حیوانات اور کیڑے مکوڑوں کا ہر ایک وقت میں اس کے اختیار میں ہے اُس پر لازم۔اور یہی تو اُس کی ہستی پر دلیل ہے۔لیکن اگر سب چیزیں انادی ہیں اور کوئی ان کا خالق نہیں تو پھر خدا کی شناخت پر کیا دلیل رہی۔کیونکہ سب جانتے ہیں جو خدا قدرتوں سے پہچانا جاتا ہے۔اور وسیلہ شناخت صانع کا صرف