حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 393 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 393

حیات احمد ۳۹۳ جلد اول حصہ سوم ہی کے الفاظ میں پہلی جلد میں کر آیا ہوں اس مجاہدہ کے متعلق آپ کا خود اپنا بیان ہے کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھے خواب میں دکھائی دیا۔اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنتِ خاندان نبوت ہے۔اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت اہلِ بیت رسالت کو بجالاؤں۔“ اس کشف سے آپ کے مقام کا پتہ با آسانی لگتا ہے مگر میں خود اس پر کوئی تنقید نہیں کرتا اور نہ یہ موقع ہے۔مجھے واقعات اور حالات کے تسلسل میں یہ دکھانا ہے کہ چونکہ وہ وقت قریب آ رہا تھا جبکہ خدا تعالیٰ آپ کو ایک عظیم الشان امر کے لئے مامور کرنے والا تھا۔اس لئے حالات نے دوسری طرف پلٹا کھایا۔اگر چہ آپ پہلے ہی اعمال اسلامی کے پکے عامل تھے اور خدا تعالیٰ کی محبت اور عشق میں سرشار تھے۔مگر یہ مجاہدہ صومی آپ کے سامنے آیا۔اور اس مجاہدہ صومی کے بعد وہ عظیم الشان واقعہ پیش آیا۔جس نے آپ کی کتاب زندگی کا ایک بہت بڑا قیمتی ورق الٹ دیا۔اور اس کے ساتھ ہی ایک شاندار باب شروع کر دیا۔یہ ورق حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی وفات کے حادثہ سے تبدیل ہوا۔میں حضرت مرزا صاحب مرحوم و مغفور کی وفات کا تذکرہ پہلی جلد میں کر آیا ہوں۔یہاں صرف اشارہ ہی کافی ہے۔حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے قبل از وقت اس حادثہ کی خبر بھی دے دی تھی اور تسلی اور اطمینان بھی۔حضرت مرزا صاحب کی وفات کے بعد آپ کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔حضرت مرزا صاحب مرحوم و مغفور آپ کی مجاہدانہ اور زاہدانہ زندگی کو دیکھتے ہوئے اس امر کا خیال رکھتے تھے کہ آپ کی کوئی ضرورت ( جو بہت ہی محدود ہوا کرتی ) اٹکی نہ رہے اور بعض وسائل آمدنی جو حضرت مرزا صاحب کی ذات سے وابستہ تھے وہ بھی بند ہو رہے تھے مگر آپ کو کسی قسم کی گھبراہٹ نہیں ہوئی۔مجاہدہ صومی کے ساتھ یہ واقعہ رونما ہوگیا اور آپ گویا عملاً دنیا سے منقطع ہو گئے۔مرزا غلام قادر مرحوم آپ کے بڑے بھائی کو آپ سے کسی قسم کا فرق نہ ہو سکتا تھا مگر وہ اپنے کاروبار دنیا میں ایسے منہمک تھے کہ وہ عمداً نہیں بلکہ حالات مصروفیت کے ماتحت گونہ غافل تھے۔اور ادھر آپ کی عادت تھی کہ آپ کسی کو کچھ نہ کہتے تھے۔ہر قسم کی تکلیف اور دکھ اپنی جان پر برداشت کرتے