حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 394 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 394

حیات احمد ۳۹۴ جلد اول حصہ سوم تھے۔اگر چہ آپ کو قانون۔شرعی اور اخلاقی عرفی حق حاصل تھا کہ آپ نصف جائیداد اپنے قبضہ میں کر لیتے اور تقسیم ہو جاتی مگر آپ نے کبھی اس طرف توجہ نہیں کی۔اور اس لئے یہ زمانہ عسرت کا زمانہ تھا مگر خدا تعالیٰ کی تائیدات اور نصرت کا عہد بھی کھلے کھلے طور پر یہاں ہی سے شروع ہوتا ہے۔غرض یہ عہد ایک عجیب عہد ابتلا اور عہدِ اصطفا ہے۔دونوں باتیں ایک ہی وقت سے شروع ہوتی ہیں۔آپ کی توجہ تمام تر اس طرف ہو گئی۔اور جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے اسلام کی تائید میں مضامین کا ایک سلسلہ لامتناہی شروع ہو گیا۔حقیقت یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں ۱۸۷۶ء کا سال حیرت انگیز سال ہے اور یہ سال آپ کو زاویہ گمنامی اور گوشہء خلوت سے نکال کر باہر لے آیا۔۱۸۷۷ ء و ۱۸۷۸ء پر اجمالی نظر یہ دوسال آپ کے بالکل قلمی جنگ میں گزرے ہیں۔اور دونوں قسم کے مجاہدات آپ کے شامل حال رہے۔راتوں کو ہم دیکھتے ہیں۔آپ تہجد کی نماز میں صبح کر دیتے ہیں۔اور دن کو آپ کا قلم مخالفین اسلام کے لئے وہ معرفت اور حقائق کے جو ہر دکھاتا ہے۔کہ آپ کی نصرت اسلام کا ہر شخص معترف نظر آتا ہے اور دوسری طرف آپ کی قبولیت کا شہرہ قادیان کی سرزمین سے نکل کر ادھر ادھر پھیلنے لگتا ہے اور کچھ نہ کچھ لوگ آپ کی خدمت میں آنے لگتے ہیں۔غرض ان دونوں سالوں میں آپ کی شہرت کیا بلحاظ ایک ناصر اسلام اور مؤید الدین ہونے کے پھیلنی شروع ہوتی ہے۔اور کیا بلحاظ تقویٰ و طہارت خدا شناسی اور خدا نمائی کے ترقی کرتی ہے۔بقیہ حاشیہ :۔لیکن ہم کو قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ باعث اس شورا شوری کا نرا ضد اور تعصب ہی نہیں۔بلکہ بسبب بے علمی اور نا آشنائی کو چہ تحقیق کے ایسے ایسے اوہام خام ان کے دلوں کو پکڑ رہے ہیں۔اور وہ لوگ باعث کمزوری عقل اور نا طاقتی فہم کے ان اوہام کی خندق سے خود بخود باہر نکل نہیں سکتے جب تک ہم اٹھ کر ان کی دستگیری نہ کریں۔اور یہی وجہ ہے کہ اب ان پر نقل مطابق اصل