حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 389 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 389

حیات احمد ۳۸۹ جلد اول حصہ سوم میں نے قلم رکھ دیا کہ میں خدا تعالیٰ کی نعمتوں اور فضلوں کو گن نہیں سکتا۔جیسے ان بارش کے قطرات کا شمار اور احصاء میرے امکان سے باہر ہے۔اسی طرح یہ امر میرے امکان سے خارج ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے انعامات کو جو مجھ پر ہوئے ہیں گن سکوں۔ساری دنیا اور اس کا ایک ایک ذرہ اور نظامِ عالم کو میں نے اپنی ذات کے لئے دیکھا۔اور ایک معرفت کا دفتر مجھ پر کھولا گیا۔اور میں نے سمجھا کہ یہ بارش کا نزول محض اس لئے تھا کہ میں اس حقیقت کو پاؤں کہ میں افضال الہی اور انعام الہی کو شمار کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔اور یہ راز منکشف ہو گیا۔کہ اگر تم خدا کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو۔تو ہرگز نہ کر سکو گے اور اس طرح پر یہ کتاب آلاءُ اللهِ یا نِعْمَةُ الْبَارِی یا افضالِ الہی ہمیشہ کے لئے معرض التوا میں چلی گئی۔جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں حقیقت یہی ہے کہ اس کتاب کی تالیف کا ابتدائی عزم آپ نے انہیں ایام میں فرمایا تھا۔اور اس کی داغ بیل کے نشانات مثنوی افضال البى يا نعمة الباری کے عنوانوں اور ناموں سے نظر آتی ہے۔اور اس کے پڑھنے سے آپ کے مقام اور قیام فِى مَا أَقَامَ اللہ کا پتہ لگتا ہے مگر ہمیشہ کے لئے اس کتاب کی تالیف کا معرض التوا میں چلا جانا یہ بعثت کے بعد کا واقعہ ہے۔ایک اور بات قیام قادیان کے ان ایام میں لالہ ملا وامل اور لالہ شرمیت رائے کے متعلق ایک خصوصیت طریق تبلیغ میں آپ کی تھی۔لالہ ملا وامل صاحب کو آپ کبھی کبھی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔جس کا ذکر میں اس کتاب کے صفحہ ۱۵۰ لغایت ۱۵۵ میں کر آیا ہوں۔ان میں غرض وہی تبلیغ و ہدایت ہوتی تھی۔لالہ شرمپت رائے صاحب کو عموماً اشعار سنایا کرتے تھے۔دُر مکنون میں ان کیفیتوں کو آپ نے گفته آید در حدیث دیگراں ، کے رنگ میں بیان کیا ہے۔مثلاً ” مناظرہ باہندو کوئی خیالی بات نہیں۔بلکہ یہ ان ایام کی ایک صحبت کا تذکرہ ہے۔جس میں آپ نے خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق اہلِ ہنود کے خیالات و معتقدات کا ایک خاکہ کھینچا ہے۔اور اسی ضمن میں اس خدا کی طرف رہنمائی کی ہے۔جو اسلام پیش کرتا ہے۔