حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 388 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 388

حیات احمد ۳۸۸ جلد اول حصہ سوم نعمۃ الباری یا آلاء اللہ کی تصنیف انہی ایام میں آپ نے ارادہ فرمایا کہ ایک کتاب نِعْمَةُ الْبَارِی لکھوں۔کبھی اپنی تحریروں یا نوٹوں میں اسے مثنوی افضال الہی بھی لکھتے ہیں۔اسی کتاب کو بعثت کے بعد آپ نے آلاء اللہ کے نام سے لکھنے کا ارادہ فرمایا تھا۔ان ایام میں تو آپ اسے نظم میں لکھنا چاہتے تھے۔بلکہ کچھ شعر نے لکھے بھی تھے۔مگر بعثت کے بعد آپ اسے نثر میں لکھنے کا عزم کرتے تھے۔اس میں ان فیوض اور برکات کا ذکر کرنا چاہتے تھے جو آپ کی ذات سے مخصوص تھیں۔اوائل میں آپ نے فارسی نظم میں جب کچھ شعر کہے تھے۔تو خدا تعالیٰ کی زبان سے افضال الہی کا تذکرہ فرمایا تھا کہ کس طرح انسان کی وہ پرورش فرماتا ہے۔اور اس کو ہر قسم کی نعمتوں سے بہرہ ور کرتا ہے۔یہ طریق آپ نے محبت الہی میں ترقی کرنے کے لئے اور عبادت الہی کے لئے شوق پیدا کرنے کے واسطے تجویز فرمایا تھا۔اس لئے کہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حسن یا احسان کو دیکھ کر اس سے محبت میں ترقی کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے حسن کے اظہار کے لئے آپ نے اس کی حمد و ثناء میں ترانے گائے ہیں۔اور اس کے احسانات کے اظہار کے لئے یہ طریق اختیار کیا۔چنانچہ آپ نے خدا تعالیٰ کی زبان چند نعماء کا ذکر کر کے لکھا تھا۔کہ اگر آئی بمن اے کردہ لرده پرواز ندا آرم بحال خویش باز نباشد نزد جز ہر پختہ رائے جز احسان اہل احسان را جزائے آپ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ میں یہ کتاب لکھنا چاہتا تھا لیکن جب میں نے قلم لے کر لکھنا شروع کیا تو یکبارگی بارانِ رحمت کا نزول ہوا اور میں نے محسوس کیا کہ ہر ایک قطرہ بارش اپنے ساتھ لا انتہا برکات اور فیوض لے کر آتا ہے۔اس کو دیکھ کر اور اس احساس کے بعد ہی ترجمہ۔اے مجھے چھوڑ کر پرواز کرنے والے اگر تو لوٹ کر میری طرف آئے تو میں تجھے اپنا حال سناؤں۔(۴) ہر سمجھ دار کی یہی رائے ہوتی ہے کہ احسان کا بدلہ احسان ہی ہے۔