حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 383 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 383

حیات احمد ۳۸۳ جلد اول حصہ سوم میرے پاس موجود تھا۔میں ایک مرتبہ بیمار ہوا۔یہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کی بات ہے۔میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو اس حالت اضطراب میں اپنے پاس آنے کی تکلیف دی۔اور آپ اپنی شفقت سے تشریف لائے۔اس موقع پر میں نے وہ مجموعہ جو نہایت گراں مایہ تھا۔آپ کی خدمت میں پیش کر دیا۔جو بعد میں در مکنون کے نام سے شائع ہوا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس کلام کا حصہ ہے۔جو آپ نے سیالکوٹ سے واپس آنے کے بعد لکھا۔ممکن ہے کہ اس میں سیالکوٹ کے لکھے ہوئے بعض شعر بھی ہوں۔مگر جہاں تک میری تحقیقات ہے۔بیشتر حصہ قادیان کے انہیں ایام کا کلام ہے۔یہ امر تو کچھ واقعات سے ثابت ہے۔اور کچھ پتہ بعض اشعار کے متعلق تاریخ کے اندراج سے بھی چلتا ہے۔مثلاً بیان توحید و رد شرک پر کچھ اشعار صفحه ۱۴۶ و صفحه ۱۴۷ پر درج ہیں۔ان اشعار کو لکھتے لکھتے ایک موقع پر اس طرح لکھا ہے۔نیست اندر سرائے بیچ غنی چوں قناعت متاع مفت و تهی سنگ بے جان زده است بر تو راه سنگ افتد بریں قیاس و نگاه ۲۱ ستمبر ۱۸۷۶ء اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظم ستمبر ۱۸۷۶ء میں لکھی ہے۔اسی طرح بعض دوسرے مقامات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ مجموعہ در حقیقت ۱۸۶۸ء سے ۱۸۷۶ء تک کے مختلف اوقات کے کلام کا ہے۔گو ایک نظم پر ۱۸۸۸ء کی تاریخ بھی ہے بہت ممکن ہے کہ اس کے سوا اور بھی کلام آپ کا اس عہد کا ہو۔لالہ شرمپت رائے صاحب اور لالہ ملا وامل صاحب کے پاس بھی کچھ اشعار تھے۔لالہ ملا وامل صاحب تو کہتے ہیں کہ وہ ضائع ہو گئے۔لالہ شرمپت رائے فوت ا ترجمہ: D کسی بھی امیر آدمی کے گھر میں وہ چیز نہیں ہوتی جو کہ قناعت سے مفت مل جاتی ہے۔(۳) جو تیری راہ میں بے جان پتھر پڑا ہے اگر تو اس کو پتھر سمجھے تو تیرے ایسے طور سے سمجھنے پر پتھر پڑیں۔