حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 384
حیات احمد ۳۸۴ جلد اول حصہ سوم ہو گئے۔میں ان کی زندگی میں ان سے مطالبہ کرتا رہا۔مگر وہ امروز فردا ہی کرتے رہے۔اور وہ اشعار جو اُن کے پاس تھے۔میں حاصل نہ کر سکا۔میں نے اپنے طلب و تلاش کے جذبات کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیا۔اگر میسر آ گئے۔تو انشاء اللہ کسی نہ کسی جگہ انہیں درج کر دوں گا۔ان ایام کی شعر گوئی مشغلہ بیکاری اور تفریح نہ تھا بلکہ جیسا کہ ابھی اوپر لکھ چکا ہوں آپ نے تکلف سے کبھی شعر کہا ہی نہیں یہ ایک فطرتی اور قدرتی رو ہوتی تھی اور آپ کے کلام میں خدا تعالیٰ کی حمد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت یا بعض دوسرے مطالب عالیہ ہوتے تھے۔مثلاً سالک کیا ہوتا ہے۔رضائے الہی کی حقیقت اور مقام کیا ہے۔منزل عشق اور حقیقت عشق کیا ہے؟ ایسا ہی ترک دنیا اور مناظر قدرت سے کیا سبق ملتا ہے ؟ طریق محبت اور مذاہب باطلہ کی تردید کا احسن طریق کیا ہے؟ غرض آپ کے ان ایام کے کلام میں اسی قسم کے مطالب ہوتے تھے۔اور یہ مقصد زندگی کے کسی حصہ میں آپ سے فوت نہیں ہوا کہ اپنی زبان کو تحمید الہی میں نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدح فرقان مجید اور ابطال باطل سے رطب اللسان رکھیں۔لالہ شرمپت رائے نے مجھ سے یہ بھی بیان کیا تھا کہ کبھی کبھی وہ میری درخواست پر بھی کوئی نظم لکھ دیا کرتے تھے۔مگر ان کی عادت تھی کہ وہ اس میں اپنے مذہب کی بحث لے آتے تھے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے پادری وایٹ برینٹ نے کہی تھی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے خلاف اعتراض کیا جاوے تو مرزا صاحب کو غصہ آ جاتا تھا۔مجھے دونوں ہی باتیں پسند آتی ہیں۔پادری وایٹ برینٹ کے منقولہ پر تو میں کسی دوسری جگہ لکھ چکا ہوں۔لالہ شرمپت رائے کا قول بتاتا ہے کہ آپ کو اپنے مذہب کے لئے کس قدر غیرت اور اس کی تائید اور اشاعت کے لئے کس قدر جوش تھا۔اور آپ یہ چاہتے تھے کہ خدا کی وہ مخلوق جو اس نعمت سے دور ہے۔اسلام کی طرف آجاوے۔اور اس مقصد کے لئے جو طریقہ بھی موزوں اور جو موقع بھی میسر آتا تھا آپ اس کو ہاتھ سے نہ دیتے تھے۔لالہ شرمپت رائے صاحب کے اس قول کی تصدیق آپ کے عمل سے ہم نے خود بھی مشاہدہ کی