حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 382 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 382

حیات احمد جلد اول حصہ سوم آپ کے قیام قادیان کے مشاغل کے سلسلہ میں اس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان ہمیشہ سے علم دوست ہی نہیں ذی علم خاندان چلا آیا ہے۔اور کم و بیش شاعری بھی ایک خداداد عطاء اس خاندان میں رہی ہے۔آپ کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب بھی شاعر تھے۔اور تحسین تخلص کرتے تھے۔مگر ان لوگوں کی شاعری ایک فطرتی اور طبعی شاعری تھی۔جس میں آمد ہوتی تھی اور تکلف اور بناوٹ کو دخل نہ ہوتا تھا۔جب بھی کچھ کہتے طبیعت کے صحیح اور بچے جوش کا اظہار اس میں پایا جا تا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ ملکہ جس مقصد اور غرض کے لئے عطا ہوا تھا۔اس کا اظہار آپ نے خود۔فرمایا ہے:۔کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے اس فطرت کا نشو و نما اور ارتقاء کیونکر ہوا۔یہ آپ کی شاعری پر بحث کرتے ہوئے انشاء اللہ العزیز میں بیان کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔جب آپ قادیان میں تنہائی اور تخلیہ کی زندگی بسر کر رہے تھے تو قدرت کے اس گراں مایہ جو ہر کا ظہور بھی کبھی کبھی ہوتا تھا۔اور اس کے مختلف محل ہوتے تھے کبھی آپ محض اپنے ان نیک اور اعلیٰ پاکیزہ جذبات اور امنگوں کا جو حضرت احدیت کی محبت و اخلاص میں رکھتے تھے اظہار کرتے اور کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے ساتھ اپنے اخلاص کا اظہار فرماتے اور کبھی مختلف مذاہب باطلہ کی تردید میں بھی قلم اٹھاتے اور دشمنانِ اسلام کے اعتراضات کے جوابات دیتے۔آپ کی عادت میں یہ امر بھی داخل تھا کہ اگر آپ کو کوئی شخص نظم میں خط لکھتا تو آپ اس کا جواب قلم برداشتہ نظم ہی میں لکھ دیتے۔جیسا کہ میں دوسرے مقام پر ایک مولوی صاحب کے خط کے جواب میں لکھ چکا ہوں۔مگر یہ شعر گوئی کبھی اور کسی حال میں آپ کا شاعرانہ مشغلہ نہ تھی۔قادیان کے اُن ایام کے کلام کا ایک بہت بڑا حصہ دیوان کی صورت میں مگر بے ترتیب