حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 362
حیات احمد ۳۶۲ ایک سرکاری مقدمہ کی لپیٹ میں جلد اول حصہ سوم انہی ایام میں جبکہ آپ اسلام کی تائید میں اور مذاہب باطلہ، مخالف اسلام کی تردید میں اخبارات میں مضامین لکھ رہے تھے۔آپ قانون ڈاکخانجات کے ماتحت ایک مقدمہ کی لپیٹ میں آگئے۔یہ مقدمہ حضرت مسیح موعود کی راست بازی اور صداقت شعاری کی ایک دلیل اور خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت کا ایک زبر دست نشان ہے۔اس لئے کہ قبل از وقت آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک روڈیا کے ذریعہ اطلاع دے دی تھی۔میں نے آپ کے سوانح حیات کے سلسلہ میں آپ کی صداقت شعاری کے نظائر پیش کرتے ہوئے اسی کتاب کے صفحہ ۱۰۴ و ۲۰۵ میں اس مقدمہ کے حالات بیان کر دیئے ہیں کہ کس طرح پر ڈلیا رام نام ایک وکیل نے (جو اخبار وکیل ہندوستان کا مالک اور عیسائی تھا) حضرت مرزا صاحب کے خلاف ڈاکخانجات کے قانون کے ماتحت مقدمہ بنوایا اور آپ نے اس مقدمہ میں اپنی راست بازی کا بر ملا اظہار دیا۔اور باوجود یکہ قانون پیشہ لوگ آپ کو صاف اور صحیح بیان نہ دینے کا مشورہ دیتے تھے مگر آپ نے پرواہ نہ کی۔اس مقدمہ کے متعلق میرے مکرم و محترم بھائی مولوی فضل الدین صاحب نے بعض لوگوں کے اعتراض پر کہ ڈاکخانہ کا کوئی ایسا قاعدہ نہیں تحقیقات کی اور اس تحقیقات کو سیرت المہدی کے حصہ دوم میں حضرت صاحبزادہ نے مشتہر کیا ہے۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اس اعتراض کی فکر تھی۔اور میں نے محکمہ ڈاک کے پرانے قوانین کی دیکھ بھال شروع کی تو ۱۸۶۶ء کے ایکٹ نمبر ۱۴ دفعہ ۱۶ و ۵۶ اور گورنمنٹ آف انڈیا کے نوٹیفکیشن نمبر ۴۲-۲۴ مورخہ ۷ دسمبر ۱۸۷۷ء دفعہ ۴۳ میں صاف طور پر یہ حوالہ نکل آیا کہ فلاں فعل کا ارتکاب جرم ہے۔جس کی سزا یہ ہے۔یعنی وہی جو حضرت صاحب نے لکھی تھی۔اور اس پر مزید یہ علم ہوا کہ ایک عینی شہادت اس بات کی مل گئی کہ واقعہ میں حضرت صاحب کے خلاف محکمہ ڈاک کی طرف سے ایسا مقدمہ ہوا تھا۔یہ شہادت شیخ نبی بخش صاحب وکیل گورداسپور کی شہادت ہے جو بہت پرانے وکیل اور سلسلہ احمدیہ کے مخالفین علام موجودہ صفحہ ۱۶۷ تا ۱۶۹