حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 361 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 361

حیات احمد ۳۶۱ جلد اول حصہ سوم حضرت مرزا صاحب سے مباحثہ کرنے سے پہلے عیسائی ہو جاتا تو دوسری بات ہوتی۔لیکن مباحثہ کے بعد آریہ مذہب کو چھوڑ دینا اپنی شکست کا اعتراف تھا۔یہی نہیں بلکہ اس نے میرے سامنے زبانی بھی بمقام بٹالہ اعتراف کیا جبکہ میں اس سے ملنے گیا تھا۔جیسا کہ میں او پر لکھ چکا ہوں۔اسی طرح یہاں پنڈت شو نرائن صاحب اگنی ہوتری نے اس خط و کتابت اور مباحثہ کے بعد اور براہین احمدیہ پر ریویو لکھ کر الہام کا منکر ہونے کا اعلان کرنے کے بعد پھر یہ اقرار کیا کہ مجھے الہام ہوتا ہے اور اس طرح پر حضرت صاحب کے دلائل کے سامنے سر جھکا دیا۔ایک برہمو کی قادیان میں آمد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ خط و کتابت جب شائع ہوئی تو ایک برہمو تیلورام کو قادیان آنے کا شوق پیدا ہوا اور وہ تحقیقات کے خیال سے یہاں آیا۔پہلے پہل وہ یہاں کے ہندوؤں کے ہاں ٹھہرا ( وہ لالہ شرمیت رائے کے گھر میں ٹھہرا تھا مگر جب اس نے حضرت صاحب سے ملاقات کی تو اس نے حضرت صاحب کی دعوت کو قبول کر لیا۔اور آپ کے مکان میں اٹھ آیا۔اسے آپ کا کھانا کھانے میں اعتراض نہ تھا۔حضرت صاحب سے اسلام کی صداقت اور برہمو ازم کے مسئلہ، انکار نبوت والہام اور بعض دوسرے مسائل پر گفتگو ہوئی۔حضرت صاحب چاہتے تھے کہ وہ کچھ زیادہ عرصہ تک یہاں قیام کرے مگر اس نے زیادہ دیر تک نہ ٹھہرنے کا عذر کیا اور واپس چلا گیا۔وہ آپ کے اخلاق اور مہمان نوازی اور علم دوستی کا مداح تھا۔جاتی مرتبہ اس نے اپنی پانی پینے کی گڈوی وغیرہ راماں چوہڑے سے اٹھوالی۔اس لئے کہ وہ چھوت چھات کا قائل نہیں تھا۔ہندوؤں میں اس کے متعلق اور بھی چرچا ہوا۔پہلے تو اس کے وہاں سے ادھر اٹھ آنے پر ہی ان کو اعتراض اور افسوس تھا۔اور اب جو انہوں نے دیکھا کہ وہ چوہڑے سے بھی چھوت نہیں کرتا تو اور بھی تعجب ہوا۔افسوس ہے کہ لالہ تیلورام صاحب کے متعلق مفصل حالات معلوم نہ ہو سکے۔