حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 363
حیات احمد ۳۶۳ جلد اول حصہ سوم میں سے ہیں۔انہوں نے لکھ کر دیا کہ ” مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مرزا صاحب پر ڈاکخانہ والوں نے فوجداری مقدمہ دائر کیا تھا۔اور وہ پیروی کرتے تھے۔مرزا صاحب کی طرف سے شیخ علی احمد وکیل پیروکار تھے۔میں اور شیخ علی احمد کچہری میں اکٹھے کھڑے تھے جبکہ مرزا صاحب ان کو اپنا مقدمہ بتا رہے تھے۔خواہ مقدمہ کم محصول کا تھا یا لفافہ میں مختلف مضامین کے کاغذات ڈالنے کا تھا۔بہر حال اس قسم کا تھا۔چونکہ میں نے پیروی نہیں کی۔اس لئے دفعہ یاد نہیں رہی۔فقط نبی بخش ۲۲ جنوری ۱۹۲۴ء میں اس مقدمہ کی واقعیت کے لئے کسی ثبوت کی ضرورت نہ سمجھتا تھا مگر یہ شہادت خدا تعالیٰ نے ایسے آدمی کے ہاتھ سے پیدا کر دی ہے جس کو اس سلسلہ سے عداوت اور مخالفت رہی ہے اس لئے میں نے اس کو اپنی تالیف میں لے آنا ضروری سمجھا والا مجھے شیخ علی احمد صاحب وکیل نے خود اس مقدمہ کے واقعات سنائے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ آخری دفعہ مقام دینہ نگر پیش ہوا تھا۔اور میں نے ہر چند چاہا کہ مرزا صاحب انکار کر دیں کہ یہ خط اس میں نہیں رکھا تھا۔میرے نزدیک اس کا کوئی ثبوت نہیں ہو سکتا تھا۔کہ وہ خط اسی پیکٹ میں سے برآمد ہوا۔اور اس کے متعلق شہادت قوی نہ تھی۔بوجہ اختلاف مذہب خود لالہ ڈلیا رام کی شہادت قابل پذیرائی نہ تھی۔میں جس قدر اصرار کرتا تھا اسی قدر مرزا صاحب انکار کرنے سے انکار کرتے تھے۔میں نے ان کو ہر چند ڈرایا کہ نتیجہ اچھا نہ ہو گا اور خواہ نخواہ ایک معزز خاندان پر فوجداری مقدمہ میں سزا پانے کا داغ لگ جائے گا۔مگر انہوں نے میری بات نہ مانی اور میں نے یہ سمجھ کر کہ میری پیروی میں مقدمہ ہارا گیا تو بڑی بدنامی خاندان کی طرف سے ہو گی اس لئے حضرت مرزا صاحب کے انکار نہ کرنے کے اصرار سے فائدہ اٹھا کر میں نے کہا کہ اگر آپ میری بات نہیں مانتے تو میں پیروی نہیں کرتا۔میرا خیال یہ تھا کہ مقدمہ میں سزا ہوگی اور الزام ان پر رہ جائے گا کہ وکیل کے مشورہ کے خلاف عمل کرنے سے ایسا ہوا۔میں اس طرح اپنی ناراضگی کا اظہار کر کے پیش نہ ہوا اور