حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 334
حیات احمد ۳۳۴ جلد اول حصہ سوم خردمند بمہر منیرش خطاب از خدا است دریغا ازیں پس گمانها چراست خدا کی طرف سے مہر منیر اس رسول کا خطاب ہے تو افسوس اس کے بعد فضول گمان کیوں ہیں اگر یکدے گم شود آفتاب شود عالم از تیرگی با خراب اگر آفتاب ایک دم کے لیے بھی غائب ہو جائے تو دنیا اندھیرے میں مبتلا ہو جائے نیکومنش طبع راست نتابد سر از آنچه حق و بجاست جو شخص عقل مند، صالح اور نیک فطرت ہے وہ حق اور سچائی سے روگردانی نہیں کرتا چوبیند سخن را از حق پروری وگر در سخن کم کند داوری جب وہ حق شناسی سے بات پر غور کرتا ہے تو پھر وہ اس بات میں جھگڑا نہیں کرتا مشو عاشق زشت رو زینهار و گر خوب گم گردد از روزگار تو ہرگز کسی بدشکل کا عاشق نہ ہو چاہے دنیا سے حسین گم ہو جائیں مکافات دارد ہمہ کاروبار تو خار و خسک تا توانی مکار ہر بات کی جزا سزا مقرر ہے اس لیے جہاں تک ممکن ہے تو کانٹے اور گوکھرو نہ بو زمین از زراعت تہی داشتن به از تخم خار و خسک کاشتن زمین کو زراعت سے خالی رکھنا اس سے بہتر ہے کہ اس میں کانٹے اور گوکھر و بوئے جائیں ز ہے دولت من کہ فضل مجید مرا اندریں اعتقاد آفرید یہ میری خوش قسمتی ہے کہ خدا کے فضل نے مجھے اس اعتقاد پر پیدا کیا ہے ز من نیک تر آں کہ بعد از خبر نیار د بدل اعتقاد دگر اور مجھ سے بھی اچھا وہ شخص ہے جو علم ہو جانے کے بعد دل میں اس کے خلاف اعتقاد نہ رکھے زبان را کند منع زاں ہر سخن که دور از ادب باشد و سوء ظن اور زبان کو ہر اس بات سے باز رکھے جو ادب کے خلاف اور بدظنی ہو