حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 333
حیات احمد ۳۳۳ جلد اول حصہ سوم را ناحق ایں بدگمانی فتاد درون کسے بدگمان ہم مباد آپ کو ناحق یہ بد گمانی لاحق ہوئی۔۔خدا سے کسی کا دل بد ظن نہ ہو به غمخواریت گویم کہ اے نیک مرد نه باید به غم خوار دل رنجه کرد اے نیک مرد میں تجھے بطور غمخوار عرض کرتا ہوں اور غم خوار سے ناراض نہیں ہونا چاہیے نشان است بر موت دلها جلی پر زندگی نبی که انکار کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے انکار۔منکروں کے دلوں کی موت کی کھلی کھلی علامت ہے جہاں جمله مُرده فتادست و زار یکے زنده او هست از کردگار سارا جہان مُردہ اور بیمار ہے خدا کی طرف سے صرف وہی ایک زندہ ہے چنین است ثابت بقول سروش اگر راز معنی نیابی خموش الہام الہی سے یہی ثابت ہے۔اگر تیری سمجھ میں یہ راز نہ آئے تو چپ رہ اگر در ہوا ہمچو مرغان پری و گر بر سر آب ها بگذری اگر پرندوں کی طرح تو ہوا میں اُڑنے لگے یا پانی پر چلنے لگے و گر ز آتش آئی سلامت بروں و گر خاک را زرکنی از فسوں اور اگر تو آگ سے سلامت باہر نکل آئے یا پھونک مار کر مٹی کو سونا بنا دے اگر منکری از حیات رسول سراسر زیاں است و کار فضول لیکن اگر تو رسول کی زندگی کا منکر ہے تو یہ سب باتیں سراسر فضول اور بے کار ہیں خدایش جو خوانده گواہ جہاں چرا داندش عاقل از غائباں خدا نے جب اسے اہل دنیا کے لیے شاہد فرمایا تو عظمند اسے غائب کیوں سمجھے داشتے بیجان دامنش نیز نگذاشتے اگر منکر او خبر دا۔اگر منکر کو اس کی خبر ہوتی تو خواہ جان دینی پڑتی مگر اس کا دامن نہ چھوڑتا