حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 335 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 335

حیات احمد ۳۳۵ جلد اول حصہ سوم بدنیا ہمہ نوع سود و زیاں با غلب رسد از ممر زبان دنیا میں ہر قسم کا نفع اور نقصان اکثر زبان کے راستے سے پیدا ہوتا ہے توان از سخن مایه یافتن مقرب شدن پایه یافتن کلام کے ذریعے دولت مل سکتی ہے نیز مقرب ہونا اور عزت پانا بھی ممکن ہے ہم از گفتگوها یکی آن بود که در گفتنش خطره جان بود اسی طرح بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے کہنے میں جان کا خطرہ ہو جاتا ہے چساں گفتهء من بفهمی تمام جہاں ریزم اندر دلت این کلام میری بات کو تو پوری طرح کیونکر سمجھے کسی طرح میں اپنے کلام کو تیرے دل میں ڈال دوں اگر جاہلے سر بتابد ز پند عجب نیست گو خود به جهل است بند اگر کوئی جاہل نصیحت ماننے سے انکار کرے تو تعجب نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی جہالت میں پھنسا ہوا ہے ولے از تو دارم عجب اے امی که فرزانه باشی و نادان شوی لیکن اے بھائی مجھے تو تیری طرف سے حیرانی ہے کہ تو دانا ہو کر نادان بنتا ہے رسولے معظم که دادار جاں چراغ جهانش بگوید عیاں وہ رسول معظم جسے خدا نے صاف طور پر جہان کا چراغ فرمایا ہے چه چیز از تو او را حجاب است و بند چه دیوار داری کشیده بلند تو پھر کونی چیز ہے جو تیری راہ میں بطور حجاب حائل ہے اور وہ کونسی اونچی دیوار ہے جو تیرے سامنے کھینچی ہوئی ہے مشو غره بر گفته یک کسے که عقل و نذیر ندارد بسے تو اس شخص کے قول پر فریفتہ نہ ہو۔جو عقل و دانش نہیں رکھتا ز ہر فاضلے بہرہ گیر اے جوان بعقل و ادب باش پیر اے جوان اے جوانمرد۔ہر عالم سے فائدہ اُٹھا اور عقل و ادب کی رو سے اے جوان تو بزرگ بن جا