حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 22 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 22

حیات احمد ۲۲ جلد اوّل حصہ اول ہیں۔ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے تب میں نے اس شخص کو جو زمین پر تھا مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔مگر وہ چپ رہا اور اس نے کچھ بھی جواب نہ دیا تب میں نے اُس دوسرے کی طرف رُخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا اور اُسے میں نے مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے وہ میری بات کو سن کر بولا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر چہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں۔پر اگر خدائے تعالیٰ چاہے۔تو تھوڑے بہتوں پر فتح پا سکتے ہیں۔اُس وقت میں نے یہ آیت پڑھی كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةِ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللهِ (البقرة: ۲۵۰) پھر وہ منصور مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا کہ خوشحال ہے خوشحال ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی کسی حکمت خفیہ نے میری نظر کو اس کے پہچاننے سے قاصر رکھا لیکن امید رکھتا ہوں کہ کسی دوسرے وقت دکھایا جائے۔اب بقیہ ترجمہ حدیث کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ حارث جب ظاہر ہوگا تو وہ آل محمد کو (آل محمد کے فقرہ کی تفسیر بیان ہو چکی ہے) قوت اور استواری بخشے گا۔اور ان کی پناہ ہو جائے گا۔یعنی ایسے وقت میں کہ جب مومنین غربت کی حالت میں ہوں گے اور دین اسلام بیکس کی طرح پڑا ہوگا اور چاروں طرف سے مخالفوں کے حملے شروع ہوں گے۔یہ شخص اسلام کی عزت قائم کرنے کے لئے بقوت تمام اٹھے گا۔اور مومنین کو جھال کی زبان سے بچانے کے لئے بجوش ایمان کھڑا ہوگا اور نور عرفان کی روشنی سے طاقت پاکر ان کو مخالفوں کے حملوں سے بچائے گا اور اُن سب کو اپنی حمایت میں لے لے گا۔اور ایسا انہیں ٹھکانا دے گا جیسے قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا۔یعنی دشمن کے ہر ایک الزام اور ہر ایک باز پرس اور ہر ایک طلب ثبوت کے وقت میں سب مومنوں کے لئے سپر کی طرح ہو جائے گا اور اپنے اس قومی ایمان سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے اس نے حاصل کیا ہے۔صدیق اور فاروق اور حیدر کی طرح اسلامی برکتوں اور استقامتوں کو دکھلا کر مومنوں کے امن میں آجانے کا موجب ہوگا۔