حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 23
حیات احمد جلد اوّل حصہ اول ہر ایک مومن پر واجب ہے جو اس کی مدد کرے۔یا یہ کہ اس کو قبول کر لیوے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک ایسا عظیم الشان سلسلہ اس حارث کے سپرد کیا جائے گا۔جس میں قوم کی امداد کی ضرورت ہوگی۔جیسا کہ ہم رسالہ فتح اسلام میں اس سلسلہ کی پانچوں شاخوں کا ذکر کر آئے ہیں اور نیز اس جگہ یہ بھی اشار تا سمجھایا گیا ہے کہ وہ حارث بادشاہوں یا امیروں میں سے نہیں ہوگا تا ایسے مصارف کا اپنی ذات سے متحمل ہو سکے اور اس تاکید شدید کے کرنے سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اُس حارث کے ظہور کے وقت جو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا لوگ امتحان میں پڑ جائیں گے اور بہتیرے اُن میں سے مخالفت پر کھڑے ہوں گے اور مدد دینے سے روکیں گے بلکہ کوشش کریں گے کہ اس کی جماعت متفرق ہو جائے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سے تاکید کرتے ہیں کہ اے مومنو ! تم پر اس حارث کی مدد واجب ہے۔ایسا نہ ہو کہ تم کسی کے بہکانے سے اس سعادت سے محروم رہ جاؤ۔اس جگہ جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔جو مومنوں کو اس کے ظہور سے قوت پہنچے گی اور اس کے میدان میں کھڑے ہو جانے سے اس تفرقہ زدہ جماعت میں ایک استحکام کی صورت پیدا ہو جائے گی اور وہ سپر کی طرح ان کے لئے ہو جائے گا اور ان کے قدم جم جانے کا موجب ہوگا۔جیسا کہ عین اسلام کے قدم جمنے کے لئے صحابہ کبار موجب ہو گئے تھے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ تیغ اور تبر سے حمایت اسلام نہیں کرے گا اور نہ اس کام کے لئے بھیجا جائے گا کیونکہ مکہ میں بیٹھ کر جو مومنین قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کی تھی جس حمایت میں کوئی دوسری قوم کا آدمی اُن کے ساتھ شریک نہیں تھا۔اِلّا شاذ و نادر وہ صرف ایمانی قوت اور عرفانی طاقت کی حمایت تھی۔نہ کوئی تلوار میان سے نکالی گئی تھی اور نہ کوئی نیزہ ہاتھ میں پکڑا گیا تھا بلکہ ان کو جسمانی مقابلہ کرنے سے سخت ممانعت تھی۔صرف قوت ایمانی اور نور عرفان کے چمکدار ہتھیار اور اُن ہتھیاروں کے جو ہر جو صبر اور استقامت اور محبت اور اخلاص اور وفا اور معارف الہیہ اور حقائق عالیہ دینیہ اُن کے پاس موجود تھے۔لوگوں کو دکھلاتے تھے۔