حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 289
حیات احمد ۲۸۹ تائید اسلام میں زندگی وقف ہوگئی جلد اول حصہ دوم سیالکوٹ کے ایام قیام میں بھی جیسا کہ قارئین کرام کو معلوم ہو چکا ہے کہ آپ کی زندگی تائید اور حمایت اسلام ہی کے لئے تھی۔اور اپنی فرصت کے وقت کو اسی کام میں لگاتے تھے۔لیکن وہاں سے واپس آ جانے کے بعد تو آپ کا کام بجز اس کے اور کچھ نہ رہ گیا تھا کہ تزکیہ نفس کے اعلیٰ مدارج کے لئے مسنون مجاہدات کریں اور جو وقت بچ جاوے اسے تائید اسلام و تبلیغ دین میں صرف کریں۔لالہ ملاوامل اور شرمیت رائے صاحب سے مذہبی گفتگوئیں ہوتی تھیں اور پھر یہ سلسلہ جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں اتنا لمبا ہے کہ سوامی دیانند صاحب اور باوا نرائن سنگھ صاحب اور منشی گور دیال صاحب وغیرہ سے قلمی جنگ شروع ہوگئی۔اس مذہبی جنگ ( مناظرات ) میں آپ کی غرض و غایت محض خدا کی رضا۔اور اعلائے کلمتہ الحق ہوتی تھی۔مباحثات میں رضاء الہی مقصود ہوتی تھی نہ بخن پروری تبلیغ اسلام کا جوش آپ کو فطرتاً دیا گیا تھا۔اور اظہار الحق کے لئے طبیعت میں کوئی روک اور خوف نہ تھا۔اس مقصد کے لئے اکثر ان لوگوں سے جو پاس آتے تھے۔مباحثات بھی ہوتے رہتے بلکہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کو مجبوراً عدالتوں میں پیروی مقدمات کے لئے جانا پڑتا تھا تو وہاں بھی اکثر مذہبی گفتگوئیں شروع ہو جاتی تھیں۔بٹالہ میں لالہ جیگو پال ایک نائب تحصیلدار تھے۔اُن کی عدالت میں جب کبھی بھی جانے کا اتفاق ہوتا تو ضرور ان سے مذہبی گفتگو ہوتی رہتی۔اور سیالکوٹ کے حالات میں تو یہ بات میں لکھ ہی آیا ہوں کہ وہاں اپنے فرض منصبی سے فراغت پانے کے بعد اکثر یہی کام ہوتا تھا اور اپنے دوست لالہ بھیم سین صاحب سے بھی اکثر مذہبی امور میں تبادلہ خیالات جاری رہتا۔جب آپ سیالکوٹ سے واپس آگئے تو مولوی محمد حسین بٹالوی نئے نئے فارغ التحصیل ہو کر آئے تھے۔اور غیر مقلدین کا فرقہ بھی نیا نیا پنجاب میں اپنا اثر پیدا کر رہا تھا۔مولوی ابوسعید