حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 288 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 288

حیات احمد ۲۸۸ جلد اول حصہ دوم چاہیئے تھا مگر میں واقعات کی تنقید اور صحت کے سوال کو جبکہ زیر نظر رکھتا ہوں تو مجھے ہر ایسے مرحلہ پر جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے کسی حصہ یا واقعہ پر کوئی اعتراض پیدا ہو اس کے رفع کرنے کی کوشش کرنی ضروری ہے۔ایک مردہ زندہ کر دیا جہاں خاکسار ایڈیٹر سیرت مسیح موعود و الحکم کا مکان ہے اس کے پچھواڑے بہت بڑا گڑھا تھا۔ایک جولا ہے ( مستمی گلاب ) کا لڑکا اس میں ڈوب گیا۔لاش پانی پر تیر پڑی۔آخر اُسے نکالا گیا اور یہ سمجھ لیا گیا کہ وہ مر گیا۔اور سچ تو یہ ہے کہ اس وقت ' مردہ ہی تھا۔اس واقعہ کو دیکھنے والے اس وقت تک زندہ موجود ہیں۔حضرت مرزا صاحب کو خبر ہوئی۔یہ بھی موقعہ واردات پر پہنچے۔آپ نے اس مردہ بچہ کو دیکھ کر فرمایا کہ تھی جو چھاچھ میں ڈوب کر مر جاتی ہے۔اس پر راکھ ڈالیں تو زندہ ہو جاتی ہے۔یہ بھی مغروق ہے ممکن ہے زندہ ہو سکے طبی اصول پر علاج کرنا چاہیئے۔چنانچہ آپ نے اُس کا سرتا لو پر سے منڈوا دیا اور اس پر سینگی لگوا دی۔اس کی کشش سے یہ اثر پیدا ہوا کہ بچہ کو ایک آنی ہوش آ گئی۔اور وہ اٹھ بیٹھا۔گویا مردہ زندہ ہو گیا مگر ضعف اور نقاہت کچھ ایسی تھی کہ اس کے منہ سے کوئی بات نہیں نکلی اور بول نہیں سکا۔آپ نے اس حالت کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ زندہ نہیں رہ سکتا۔چنانچہ چند ہی منٹ کے اندر وہ فوت ہو گیا۔یہ واقعہ اگر حقائق پسند قوم کے سامنے نہ ہوتا تو فی الحقیقت اس کی تعبیر مردہ زندہ کرنے کے معجزہ سے ہوتی مگر آپ نے صرف ایک طبی اصل کو زیر نظر رکھ کر تجربہ کیا اور اس تجربہ میں ایک حد تک آپ کو کامیابی ہوئی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی طبیعت نہایت غور کرنے والی اور فکر رسا واقع ہوئی تھی۔کہاں لکھی کا معاملہ اور اس سے استنباط کر کے آپ نے ایک مغروق کے زندہ کرنے کے لئے کوشش کی۔