حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 290 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 290

حیات احمد ۲۹۰ جلد اول حصہ دوم محمد حسین صاحب نوجوان اور اپنے علم کے نشے میں سرشار۔ان مذہبی مباحثات میں جو حنفیوں اور غیر مقلدین میں ہو رہے تھے لیڈنگ پارٹ لیتے تھے۔ان کے بٹالہ آنے کے ساتھ بٹالہ کے مسلمانوں میں بھی ایک تحریک اور جوش پیدا ہو گیا اور انہوں نے مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کے خیالات جدیدہ ( وہ لوگ انہیں جدیدی کہتے تھے ) کی تردید کے لئے کوشش کرنی شروع کی۔بٹالہ والوں کی نظر حضرت مسیح موعود پر پڑی اور وہ انہیں بلا کر مولوی بٹالوی سے مباحثہ کے لئے لے گئے۔اس مباحثہ کے متعلق حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ :- ۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء میں۔۔۔مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکتب بھی تھے۔جب نئے نئے مولوی ہو کر بٹالہ میں آئے اور بٹالیوں کوان کے خیالات گراں گزرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کرنے کے لئے اس ناچیز کو بہت مجبور کیا۔چنانچہ اس کے کہنے کہانے سے یہ عاجز شام کے وقت اُس شخص کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو معہ ان کے والد صاحب کے مسجد میں پایا۔پھر خلاصہ یہ کہ اس احقر نے مولوی صاحب موصوف کی اُس وقت کی تقریر کو سن کر معلوم کر لیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابلِ اعتراض ہو۔اس لئے خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا۔رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اس ترک بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا، یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔پھر بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے۔جو گھوڑوں پر سوار تھے۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۲۱ ۶۲۲۰ حاشیہ نمبر۳)