حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 280 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 280

حیات احمد ۲۸۰ میں مؤلف براہین کی طرف سے دے سکتے ہیں۔جلد اول حصہ دوم الجواب۔سورہ شعراء میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اسی بات کے جواب میں فرمایا ہے کہ وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيْطِيْنُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْع لَمَعْزُولُوْنَ (الشعراء : (۲۱۱) تا (۲۱۳) هَلْ أَنَنْتُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيْطِيْنُ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَاكٍ ايْهِ تُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كُذِبُونَ۔(الشعراء:۲۲۲ تا ۲۲۴) اس قرآن کو شیطانوں نے نہیں اتارا اور نہ ان کو یہ طاقت ہے وہ تو آسمان کی خبریں سننے سے آگ کے شعلوں کے ساتھ (اب) روکے جاتے ہیں۔ہم تمہیں بتادیں شیطان کن لوگوں پر اتر تے ہیں۔وہ بڑے جھوٹے گنہگاروں پر اترتے ہیں اور ان کو وہ جو کچھ چوری سے (انگار پہنچنے سے پہلے ) سن پاتے ہیں پہنچاتے ہیں۔اور اکثر باتوں میں جھوٹے نکلتے ہیں۔اس جواب کا ماحصل (چنانچہ بیضاوی و امام رازی نے بیان کیا ہے ) یہ ہے کہ قرآن جو آنحضرت پر نازل ہوا ہے دو وجہ سے القائے شیطانی نہیں ہوسکتا۔اوّل یہ کہ جن لوگوں کے پاس شیطان اترتے ہیں وہ اپنے افعال و اعمال میں شیطانوں کے دوست اور بھائی ہوتے ہیں اور بڑے گنہ گار اور بڑے جھوٹے۔اور یہ باتیں آنحضرت صلعم میں پائی نہیں جاتیں وہ تو شیطان کے دشمن ہیں اور اُس کو لعنت کرنے والے، جھوٹ اور گناہوں سے مجتنب اور ان سے منع کرنے والے۔دوم وہ باتیں جو شیطان لاتے ہیں اکثر جھوٹی نکلتی ہیں اور آنحضرت کے قرآن کی ایک بات بھی جھوٹی نہیں۔یہی جواب ہم الہامات مؤلف براہین کی طرف سے دے سکتے ہیں اور یوں کہہ سکتے ہیں کہ شیطان اپنے ان دوستوں کے پاس آتے ہیں اور ان کو ( انگریزی خواہ عربی میں ) کچھ پہنچاتے ہیں جو شیطان کی مثل فاسق و بدکار اور جھوٹے دوکاندار ہیں اور مؤلف براہین احمدیہ مخالف و موافق کے تجربے اور مشاہدے کی رو سے (والله حسيبه ) شریعت محمدیہ پر قائم و پرہیز گار اور صداقت شعار ہیں اور نیز شیطانی القا اکثر جھوٹے نکلتے ہیں اور الہامات مؤلف براہین سے (انگریزی میں ہوں خواہ ہندی و عربی وغیرہ ) آج تک ایک بھی جھوٹ نہیں نکلا (چنانچہ اُن کے مشاہدہ کرنے والوں کا