حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 279 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 279

حیات احمد ۲۷۹ جلد اول حصہ دوم وقت تک تو ہم اِس اعتراض کو لائق خطاب و مستحق جواب نہیں سمجھتے۔ہاں بجائے اس اعتراض کے اگر یہاں یہ سوال کیا جائے کہ باوجود یکہ مؤلف براہین احمدیہ کی مادری زبان ہندی ہے اور مذہبی اور علمی زبان عربی اور صرف علمی و استعمالی فارسی - انگریزی نہ ان کی مادری زبان ہے نہ مذہبی نہ علمی نہ اس زبان سے ان کو کسی قسم کی واقعی ہے پھر ان کو انگریزی میں کیوں الہام ہوتے ہیں اور اس کا ستر وفائدہ کیا ہے تو یہ سوال لائق خطاب و مستحق جواب ہے اور اس کا جواب یہ ہے کہ اس زبان میں (جس سے مؤلف کی زبان۔کان۔دل۔خیال کسی کو آشنائی نہ تھی۔) مؤلف کو الہام ہونے میں ایک فائدہ وستر تو یہ ہے کہ اس میں سامعین و مخاطبین کو مؤلف کی طبیعت یا خیال کی بناوٹ کا احتمال و گمان نہ ہو۔ہندی۔فارسی۔عربی (جوان کی مادری و مذہبی وعلمی زبانیں ہیں) کے الہامات میں یہ بھی احتمال اور مترددین کو خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ الہامات مؤلف نے خود عمد ابنا لئے ہیں یا بلا ارادہ و اختیار ان کی حالت خواب میں ان کے دماغ و خیال نے گھڑ لئے ہیں۔اس گھڑت و بناوٹ کا خیال الہامات انگریزی میں (جس سے صاحب الہام کی زبان۔کان۔دل و خیال کو کسی قسم کا تعلق نہیں ) کوئی نہیں کر سکتا کیونکہ طبیعت و خیال کو اس چیز تک رسائی ہوتی ہے جس سے اس کو کسی وجہ سے تعلق ہو۔ہندی نژاد ( جو عربی سے محض نا آشنا ہو ) کا خیال عربی نہیں بنا سکتا جیسے مچھلی اُڑ نہیں سکتی۔اور چڑیا تیر نہیں سکتی۔شائد امرتسری معترضین و منکرین جو اہلِ حدیث کہلا کر حدیث کے نام کو بدنام کر رہے ہیں۔یہ اعتراض کریں کہ انگریزی زبان کے الہام میں طبیعت یا خیال کی بناوٹ کا احتمال نہیں تو یہ احتمال تو ہے کہ یہ انگریزی الہام شیطان کی طرف سے ہو جو انگریزی، عربی ، فارسی ، ہندی وغیرہ سبھی زبانیں جانتا ہے۔اور اس میں غیب کی باتیں اور پیشین گوئیاں ہیں وہ شیطان نے آسمان سے چھپ کرسن لی ہوں۔كَذلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ (البقرۃ: ۱۱۹) یہی بات پہلے مشرکین عرب نے آنحضرت کے الہامات عربی کی نسبت کہی تھی پس جو اس کا جواب خدائے تعالیٰ نے آنحضرت کی طرف سے دیا ہے وہی ہم اس مقام