حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 271 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 271

حیات احمد ۲۷۱ جلد اول حصہ دوم استعانت کے خواستگار ہوتے ہوئے بیت ثانی میں فرماتے ہیں: جو ہم پر غم سے گزری اگر اونٹ پر گزرتی تو کا فرجته الماویٰ پر علم نصب کر دیتے۔ظاہر ہے کہ انسان تصور میں ایک شعلہ کی بجائے ہزار شعلے قائم کر سکتا ہے کونسی مشکل آن پڑی ہے کہ ایک پر ہی بس کرے۔مترجم )۔کیونکہ نہ روح کو احساس درد ہے نہ دل کو جلنے کی تکلیف جعل و فریب کے راستے کھلے ہیں ایک شعلہ تک محدود نہیں مگر اہل اسلام کی عبادات اپنے او پر موت وارد کر لینا ہے کہ عاشق صادق اور متلاشی کو اس یار حقیقی کی تلاش میں اندر اور باہر اپنے دل کو ظلمات کے دریا سے آشنا کرنا اور روح و تن کو درد و غم میں پگھلانا اور آنکھوں سے نیند اڑا دینا اور روح و دل کا بے قراریوں میں مستغرق کرنا اس راہ میں جلنا اور چارہ جوئی کرنا اور درحقیقت غموں کے پہاڑ اٹھانا اور دل مہجور سے ہائے ہائے کی آواز نکلنا اور مرنے سے پہلے مرنا اور بیکراں غم و درد کا پیکر ہو جاتا ہے۔غرض یہ کہ میں کیونکر ان کیفیات کو تحریر کروں۔پس اس عادل و مقدس نے دلوں کا دلوں سے تعلق رکھا ہے کیا وہ اپنے ایسے طالب سے بیخبر ہو گا ؟ کیا وہ اپنے ہاتھ کو دراز کر کے اس طرح کے جانباز بندہ کو اپنی طرف نہیں کھینچے گا ؟ پس اب منصف مزاج از خود تأمل کرے کہ عشق و محبت و دردمندی کا یہ طریق کہ روح و دل کو جلوہ انوار حقیقی کی آرزو میں جلانا اور خود کو رنج و تکلیف سے دو چار کرنا حق و راست ہے یا وہ طریق کہ اپنے دجل وفریب سے دل میں ایک شعلے کا تصور باندھنا جس سے نہ روح میں احتراق ہے اور نہ ہی دل میں سوز و گداز۔ظاہر ہے کہ اس شعلہ کی اصل دروغ و باطل پر ہے کیونکہ خدا تعالیٰ ہمارے تصور کا تابع نہیں اور نہ ہی ذات محيط السماوات انسان کے تصور میں سما سکتی ہے۔پس وہ قلبی عبادت جو رَبُّ الْعَالَمِین کو زیبا ہے اس میں شعلہ کا کام قرار دینا کفر ہے۔اب میں چاہتا ہوں کہ اپنے اس مختصر جواب کلام کو ختم کروں۔سوال یہ ہے کہ بُت پرستی کی تعریف کیا ہے؟ اب میرے نکتہ کلام کو غور سے سن کر سمجھنا چاہیے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بتوں کو آنکھوں کے سامنے رکھنا کفار کے زعم میں ایک مقصد کے حصول کے لیے ہے اور شریعت کی زبان میں اسی غرض کا نام