حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 272
حیات احمد ۲۷۲ جلد اول حصہ دوم استعانت ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پس ان آیات ربانی کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی جو عبادت تو میری کرے اور استعانت بت سے طلب کرے تو اس نے در حقیقت بت کی پوجا کی۔کیونکہ میں تو محتاج عبادت نہیں ہوں یعنی وجوب عبادت انسان کی حاجت روائی کے لیے ہے کیونکہ عبادت کے معنی مدد طلب کرنا اور اس مدد کا شکر بجالانا ہے اور اگر انسان کو مددمن جانب اللہ نہ پہنچے تو ہلاک ہو جائے۔لہذا کلام اللہ میں یہ تحریر ہے کہ عبادت باعث حیات انسان اور موجب بقائے بنی آدم ہے۔اگر غیب سے ہر دم مدد نہ پہنچے تو تو ایک لمحہ کے لیے بھی از خود قائم نہیں رہ سکتا۔اور انسان راستی ، میانہ روی، استقامت دل اور وصال حق کے لیے زیادہ تر محتاج استعانت ہے۔پس اگر انسان کہے کہ میری یہ حاجت بُت کی دستگیری اور اعانت سے پوری ہوئی ہے تو اس انسان نے خود اپنی عبادت کی اور خدا کو ایک متاع کے طور پر فرض کیا جو وسیلہ بہت سے دستیاب ہوگا۔فقط ملا زمت کو قید خانہ ہی سمجھتے تھے حیات حجام قادیان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے سیالکوٹ ایک مرتبہ پار چات پوشیدنی لے کر گیا۔وجہ یہ تھی کہ آپ کو خود تو یہ شوق تھا نہیں کہ اپنے لباس و خوراک کی طرف توجہ کریں جو مل گیا کھا لیا اور جو کپڑا گھر والوں نے بنوادیا پہن لیا۔اسی واسطے سالہا سال تک آپ کو اتنا بھی معلوم نہ ہوا کہ کرتے کو کتنا کپڑا لگتا ہے اکثر آپ کہہ دیا کرتے تھے کہ میرے لئے اتنے کرتے بنادو۔درزی نے یا بنانے والے نے جو قیمت کہہ دی دیدی ایسا بھی ہوا کہ بعض لوگوں نے اس معاملہ میں آپ کے مال پر بے جا تصرف کر کے اپنی عاقبت بگاڑی مگر آپ ان امور کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے تھے خیر یہ قصہ تو میں دوسری جگہ کھول کر کہوں گا یہاں مجھ کو اتنا اس تقریب سے کہنا پڑا کہ چونکہ لباس کے متعلق آپ خود کوئی اہتمام نہیں کرتے تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ کو خصوصیت سے خیال رہتا تھا۔قادیان سے انہوں نے چار جوڑے کپڑوں کے تیار کرا کر آپ کے واسطے سیالکوٹ بھیجے اور حیات حجام لے کر گیا۔آپ کی طبیعت چونکہ فیاض واقع ہوئی تھی آپ نے ایک