حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 270 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 270

حیات احمد جلد اول حصہ دوم پس مومن اور بت پرست میں فرق اسی استعانت کا ہے۔بت پرست کشف انوار حقیقت کے لیے استعانت بتوں سے مانگتا ہے اور مدد اپنے ہاتھوں تراشیدہ بتوں سے طلب کرتا ہے اور بت پرست کا دعوی ہے کہ بتوں کے توسط سے میں دریائے حقیقت سے مل جاؤں گا۔ہم پوچھتے ہیں کہ وہ دریائے حقیقت کتنا زیادہ ہے کیا انسان کا دل محيط العالمین کی ذات پر محیط ہوسکتا ہے؟ اے دانائے بصیر اذرا قیاس تو کر کہ انسانی ذرات کو قدیم الصفات (خدا) کی ذات سے کیا مطابقت اور محدود کو غیر محدود سے کیا برابری اور نہایت پذیر کو بے نہایت ذات سے کیا نسبت؟ انسان کی سعی کا منتہا یہ ہے کہ اپنے دل کو تمام محسوسات ومرئیات سے کنارہ کشی کرتے ہوئے تمام اشکال و اجسام کو زیر لائے نافیہ لاتے ہوئے اُس ربّ العالمین کے جلال کے تصور سے اپنے دل کو ظلمات حیرت میں ڈال دے اور اس وقت ایسا بھوکا اور پیاسا اور سخت تکلیف میں ہو کہ جاں بلب ہو رہا ہو اور اس کو پانی ، غذا اور علاج کی ضرورت ہواس طرح کشف انوار حقایق کے لیے درگاہ حق میں طلبگار ہو اور اپنی طرف سے کوئی چیز نہ تراشے۔چنانچہ کفار ہنود جن کی ظاہری عبادت بُت پرستی ہے اور جب وہ بُت پرستی سے ہٹ کر اسے اپنے طور پر تصور کرتے ہیں اور تو اپنے ہی وہم سے انگشت برابر شعلہ کا خیال باندھ کر اپنے تصور میں رکھتے ہیں تو یہ بھی بت پرستی کی ایک قسم ہے۔(مذکورہ عقیدہ میں) یہ نہ جانتے ہوئے کہ خدا انسان کا محکوم ہے یا نہیں جو انسان کے تصور کا تابع ہو۔کیا وہ جو محیط العالمین ہے (وہ) انسان کے تصور میں سما سکتا ہے؟ تیرا قیاس اس پر ہرگز محیط نہیں ہوگا۔دروغ و کذب کو راستی کے محل پر لانا اور اپنے مفروضہ کو رونق حقیقت بخشنا تو بت پرستوں کا شیوہ ہے۔مولا نا مولوی رومی فرماتے ہیں: میں عبادت میں تو بہ قبول کرنے والے جہاں کے ربّ سے ویسی ہی استعانت کا طلبگار ہوں جیسی کفار بتوں سے مانگتے ہیں۔یہ شعر آیت ايَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کا ترجمہ ہے۔حاجت کا اندازہ اور حاجتمند کا قیاس۔حاجتمند (مولانا مولوی رومی) تو خود اللہ تعالیٰ سے کشف انوار حقایق کی غرض سے اللہ تعالیٰ سے