حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 269
حیات احمد ۲۶۹ جلد اول حصہ دوم انوار الہی کے حقائق کا علم حاصل کرنے کی (ذاتی طور پر طاقت و مقدرت نہیں ہے کیونکہ خدا محکوم نہیں ہے کہ انسان کے ارادہ کے تابع ہو اور انسان حاکم خدا نہیں کہ انوار ایزدی کے خزانہ میں دخل اندازی کر سکے۔پس ایک ذرہ امکان محیط العالمین کی ذات والا پر کس طرح محیط ہو اور ایک والا پر حقیر مخلوق ہر چیز کے پیدا کرنے والے کو کس طرح دریافت کرے سوائے اسکے کہ وہ خود اپنی ذات کا جلوہ کسی کو دکھلائے اور دوسرے یہ کہ وہ خود اس کے دل کو منور کر دے۔لہذا تقاضائے رحمتِ ایزدی نے خداوند متعال کی طرف سے خود استعانت کی اجازت بخشی۔یہی مضمون ہے کہ جب بھی ہم نماز قائم کریں تو چاہیے کہ اسماء وصفات حق تعالیٰ کے تصور سے ہر چیز کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے دل کو ظلمات حیرت میں ڈالیں اور اس وقت اپنے خدا سے استعانت کے طلب گار بنیں کہ اے خدایا! ہم نے محسوسات کے نشیب گاہ سے حتی المقدور اپنے آپ کو باہر نکال کر خود کو تیرے جلال کے تصور کی طرف کھینچا ہے لیکن اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہم اس درگاہ عالی تک نہیں پہنچ سکتے اب تیری مدد کے منتظر ہیں۔لیکن جاننا چاہیے کہ یہ تصور استعانت اس طرح روح و دل کے ساتھ ظلمات حیرت میں یکجا ہو جائے کہ گویا روح و دل ہی صورت تصور ہے۔یہ ہم بنی آدم کی انتہا درجہ کی کوشش ہے اسکے بعد معرفت کے درجہ پر پہنچانا اور اپنی طرف کھینچنا خدا کا کام ہے۔چنانچہ آیت إيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں اسی استعانت کی جانب اشارہ ہے اور کفار بتوں کو اس استعانت کا مظہر جانتے ہوئے آرام و اطمینانِ دل اور معرفت کے درجہ تک پہنچنے کا وسیلہ ان بتوں کو بناتے ہیں۔چنانچہ انکا یہ کہنا کہ ہمارے بت عبادت کرتے وقت عینک کی طرح ہوتے ہیں ، انہی معنی پر دلالت کرتے ہیں یعنی جس طرح عینک بصارت کی مددگار ہے اور نگاہ کو ہدف حقیقی تک پہنچاتی ہے اسی طرح ہمارے بت بھی دل کے مددگار ہیں جو دل کو پرا گندگی سے بچاتے ہیں اور قرب و معرفت کے درجہ تک پہنچا دیتے ہیں۔یہ معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ نے ازل سے روئے دل کو اپنی طرف جذب کر رکھا ہے پس پراگندگی کہاں ہے جبکہ معرفت تک پہنچنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔