حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 268
حیات احمد ۲۶۸ جلد اول حصہ دوم اور دل کی پراگندگی کا باعث ہے۔منجملہ ان شہوات میں سے ایک بت پرستی ہے۔دوسری اندرونی حرکت ہے جو مبدء قرب و معرفت اور اطمینان و آرام کا باعث ہے۔اور نفس کی تقسیم ، نفس امارہ نفس لوامہ ونفس مطمئنہ کی اسی بنیاد پر ہے اور دل کی پراگندگی پر مخلوق نہیں ہے ورنہ انسان عبادت کے لیے مکلف نہ ٹھہرتا۔اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بت پرستی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ دل دید کی خواہش کرتا ہے اور ہم اس خواہش کی تکمیل بت پرستی سے کرتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ دل تو وصال خدا کا طالب ہے پس وہ شوق بجز وصال خدا کے کہاں تسکین پائے گا۔یہ تو اسی مثل کے مصداق ہے کہ کسی کو پانی کی احتیاج ہو اور اس کو آگ میں پھینک دیا جائے۔صفحہ ۲ کی سطر ۲۔ہندو کہتے ہیں کہ ہم بتدریج اجسام پرستی سے دریائے حقیقت کے طرف جاتے ہیں اور ہمارے بت پرستش کے وقت عینک کی مانند ہیں اس سے زیادہ ہمارے نزدیک وقعت نہیں رکھتے یعنی عینک جو آنکھ کی مددگار ہے اسی طرح بُت بھی دل کے مددگار ہیں جو دل کو جلد تر عرفان کے درجہ پر پہنچا دینے کا موجب ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اس درجہ معرفت سے کیا مراد ہے؟ اگر یہ اسماء صفات باری جاننے سے تعبیر ہیں تو اس کا اجمال تو خود دل کے اندر ہی نقش ہے جس کی تفصیل کلام ربانی کی پیروی سے حاصل ہوتی ہے اور اگر درجہ معرفت سے مراد در اصل فانی فی اللہ ہونا ہے جو انبیاء و اولیاء کا وصف ہے۔تو جاننا چاہیے کہ وہ مقام انسان کے اختیار سے بلند تر ہے اور اس میں حکمت و تدبیر پیش نہیں جاتی۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ تلاوت کلام ربانی سے حق تعالیٰ کا ارادہ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ وحدت باری پر ایمان لانے اور اسکی تمام صفات کے اقرار کے لیے دست تقدیر نے ایک قوت انسان کے دل میں تحریر کر دی ہے اور وہی قوت ایمان لانے کا باعث ہے ایک پہلو سے یہ قوت عبادت بجالانے کے لیے دی گئی ہے اور وہی فریضہ عبادت بجالانے کا مکلف بناتی ہے جہاں تک انسان کا تعلق ہے وہ بذات خود قرب و وصال حق کے لیے طاقت نہیں رکھتا اور انسان کو