حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 267
حیات احمد ۲۶۷ جلد اول حصہ دوم واضح ہو کہ ایمان لانے کے لیے دل کی شہادت ضروری ہے کیونکہ روایات کا دامن کذب سے آلودہ ہونے کا احتمال ہو سکتا ہے اور ربانی کلام کی نشانی یہی ہے کہ اسکی تعلیمات کی سچائی پر دل گواہی دے۔پس خدائے کریم و رحیم جو کہ عادل و منصف ہے اسطرح کی تکلیف ما لا يطاق کو جس کے صدق و کذب کا دل پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا کس طرح تجویز کرے گا۔باوجود یکہ اس اعتقاد پر تمام ہندو متفق نہیں؟ ہندومؤرخین یہ کہتے ہیں کہ یہ تینوں اشخاص ہم عصر تھے اور لوگوں کے ساتھ ملتے جلتے ، کھاتے پیتے ، بول و براز کرتے تھے اور اپنی بیویوں سے تعلقات قائم کرتے نیز ان سے امور فواحش بھی سرزد ہوئے۔چنانچہ ہنود کی کتب کے مطالعہ کرنے والوں پر یہ تمام بیان مخفی نہیں ہے۔اور اس قوم کے تاویل کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ تینوں فرشتے تھے جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور ان کے دانشور کہتے ہیں کہ یہ تینوں زمانہ کے نام ہیں، اور وہ زمانہ کو تین جزو میں تقسیم کرتے ہیں۔ملل ونحل اور مصنف اور دبستان کے مصنفین یہ کہتے ہیں کہ ہندوؤں میں سے ایک فرقہ ان تینوں اشخاص کے بارہ میں کہتا ہے کہ یہ خصیتین وآلہ تناسل سے تعبیر ہیں اور پھر وہ دلائل میں دوسروں کو ساکت کر دیتا ہے۔ہاں! وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ (يوسف:) صفحہ اوّل کی نویں سطر میں تحریر ہے کہ یہ لوگوں کو کہتے ہیں کہ بت پرستی پر طعن کرنا غلط ہے ( کیونکہ ) اہل اسلام ہمارے عقائد کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ہم ان ہرسہ میں سے ہر ایک کو مظہر الوہیت اور اپنی تو جہات کا مرکز قرار دیتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ کو مجسم ماننے کا عقیدہ ہمیشہ سے باطل ہے۔پس ایسا خیال کرنا فاسد پر فاسد کی بناء رکھنے کی طرح ہے۔صفحہ اوّل دسویں سطر۔ہندو یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں کو آنکھوں کے سامنے رکھنا اس وجہ سے ہے کہ تا دل کو ہم پراگندگی سے بچائیں۔میں کہتا ہوں کہ دل کی دوحرکتیں ہیں۔ایک بیرونی حرکت ہے جو مبدء شہوات جسمانی ہے