حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 266
حیات احمد ۲۶۶ جلد اول حصہ دوم ب ہے۔الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ مہربانی پر مہربانی فرمانے والا۔مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ عدالت کے دن کا بادشاہ۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں یعنی عبادت کرنا ہمارا کام اور قرب و معرفت تک پہنچانا تیرا کام ہے۔اس کے بعد آنے والی آیت میں استعانت کے معنی کی تشریح ہے جس کی وہ خود تعلیم فرماتا ہے۔اِهْدِنَا الصِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالین تو ہمیں راہِ راست کی طرف ہدایت دے ان لوگوں کی راہ کی طرف جن کو تو نے معرفت کے درجہ تک پہنچایا ہے۔جن پر تو ناراض نہیں ہوتا اور جو لوگ تجھ سے دور نہیں ہیں۔جاننا چاہیے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ سے پہلے والی آیات میں عبادت کے معانی تعلیم کئے گئے ہیں اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے بعد والی آیات میں استعانت کے معانی بتائے گئے ہیں یعنی مدد چاہنا جو کسی صاحب بصیرت پر مخفی نہیں۔اب اس کلام کے ذیل میں بت پرستوں کے اوہام کا ازالہ تحریر کیا جا رہا ہے جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔اس رسالے کے پہلے صفحہ کی ساتویں اور آٹھویں سطر میں یہ کہتے ہیں کہ خدائے بے مثل ان تین اجسام سے مجسم ہوا پھر بھی اس وحدانیت کا دامن غبار آلود نہیں ہوا۔میں کہتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ کا واحد ہونا اور اسکا تمام موجودات پر محیط ہونا اور اسکا غیر محدود ہونا اور ازل سے ابد تک اس کا یکساں ہونا اور سب سے بزرگ تر ہونا وغیرہ جو صفات رکھتا ہے اسکی یہ تمام صفات روز اوّل سے ہمارے دل پر نقش ہیں اور ہماری روحیں اور قلوب اس کی قرارگاہ اور آرام گاہ ہو چکے ہیں اور اسکی تمام صفات ہمارے دل کا مرجع اور ہمارے دل ان صفات سے مانوس ہیں۔اور کفار کا خدا کے مجسم اور تین وجود ماننا اور انہیں بیوی بچوں اور ماں باپ والا کہنا ان کا صرف زبانی دعویٰ ہے اور دل کو اس کے تسلیم سے کچھ حصہ نہیں۔پس اس سے بڑھ کر تکلیف دہ بات اور کیا ہوگی کہ وہ جن امور کو حق تعالیٰ کی ذات میں گمان کرتے ہیں، دل کی شہادت اس پر نہیں ہے اور اگر اس غبار سے مراد وہ غبار ہے جو تو دی خاک سے حاصل ہوتا ہے تو یہ امر دیگر ہے۔