حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 248
حیات احمد ۲۴۸ جلد اول حصہ دوم لے کر ان واقعات میں غور کرے تو اس کے لئے بڑے بڑے سبق اور معرفت کی باتیں ان میں ملیں گی۔جی ہے کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے۔لالہ ملا وامل صاحب سے ناراضگی میں پیچھے بھی ذکر کر آیا ہوں کہ کبھی کبھی لالہ ملا وامل سے ناراض ہو جاتے مگر یہ ناراضگی کبھی اور کسی حال میں کسی دنیوی معاملہ کے متعلق نہ ہوتی تھی بلکہ دینی غیرت کا نتیجہ ہوتی۔اور آپ کو ناراض کرنے والی بات اگر کوئی ہو سکتی تھی تو وہ صرف حمیت دینی ہی ہوتی تھی۔میں نے دوسری جگہ حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کا واقعہ لکھا ہے جس سے یہ حقیقت پورے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔حضرت مولانا عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ اپنے وسیع تجربہ کی بنا پر فرماتے ہیں:۔ایک ہی چیز ہے جو آپ کو متاثر کرتی ہے۔اور جنبش میں لاتی اور حد سے زیادہ غصہ دلاتی ہے وہ ہے هَتْكِ حُرُمَاتِ اللَّهِ اور اِهَانَتِ شَعَائِرِ اللَّهِ: فرمایا : ” میری جائیداد کا تباہ ہونا اور میرے بچوں کا آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے ہونا 66 مجھ پر آسان ہے بہ نسبت دین کی ہتک اور استخفاف کے دیکھنے اور اس پر صبر کرنے کے۔“ یہ امر واقعہ ہے اور اس کو حضرت صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کے واقعہ سے ملا کر غور کرو۔ایسی غیرت اور حمیت نے ایک مرتبہ آپ کو لالہ ملا وامل صاحب سے سخت ناراض کر دیا وہ حمیت اور غیرت بہت بڑھ گئی اور آپ کے کلام میں تیزی زیادہ ہو گئی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر رفق کی ہدایت کی۔حضرت مسیح موعود نے اس واقعہ کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے نام ایک خط لکھتے ہوئے اعتقاف فرمایا۔اور غرض یہ تھی کہ اس تقریب پر آپ مولوی صاحب کو انکساری اور فروتنی کی طرف توجہ دلا ئیں۔چنانچہ آپ نے لکھا :- ” میرے خیال میں اخلاق کے تمام حصوں میں سے جس قدر خدا تعالیٰ تواضع اور فروتنی اور انکساری اور ہر ایک ایسے تذلل کو جو منافی نخوت ہے پسند کرتا ہے ایسا کوئی