حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 247 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 247

حیات احمد ۲۴۷ جلد اول حصہ دوم ان ایام میں جب کہ آپ کے کھیل کود کے دن تھے۔اور آپ اس سے بالکل بے رغبتی ظاہر کرتے تھے۔کسی کے وہم میں بھی یہ بات نہ آتی تھی کہ آپ اس کھیل میں مصروف ہیں جو نتیجہ خیز اور ابدی ہے۔اس وقت تو کھیلنے والے بچے بھی آپ کو محض ناکارہ سمجھ کر کپڑوں کی رکھوالی کے لئے چھوڑ دیتے تھے۔کہتے ہیں اس وقت کبڈی جب لڑکے کھیلتے تو مرزا امام الدین وغیرہ کبھی کبھی آپ کو کپڑوں کی حفاظت کے کام پر مقرر کر کے آپ کھیل میں مصروف ہو جاتے اور آپ بیٹھے ہوئے ان کی نگہبانی کرتے۔بات بہت معمولی ہے مگر اس سے ایک عارف پتہ کی بات نکال لیتا ہے کہ آپ گویا اس وقت دنیا کے لباس التقویٰ کی حفاظت اور اصلاح کا کام اپنے ذمہ لینے والے تھے اور اس کا قرعہ اس رنگ میں آپ کے نام پڑتا تھا۔اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ دوسرے بچے کھیلتے اور آپ ان میں ہار جیت کا فیصلہ کرتے یعنی ایمپائر یا حکم ہوتے۔یہ پیش خیمہ اس امر کا تھا کہ آپ حکم عدل کے منصب پر خدا کی طرف سے مامور ہونے والے تھے۔اس لئے جس رنگ میں بھی کوئی کام آپ کے سپرد ہوتا اس میں اسی منصب کا اثر باقی ہوتا تھا حتی کہ کھیل کے معاملہ میں بھی، آپ اگر چہ کھیلتے نہ تھے مگر جب کبھی آپ کسی کھیل کے وقت چلے جاتے یا لیجائے جاتے تو آپ کے سپر د دوہی کام ہو تے کھیل کا فیصلہ یا حفاظت اسباب۔اور یہی دوامر تھے جو آئندہ آپ کی زندگی میں پیش آنے والے تھے۔اللہ تعالیٰ کے دین (اسلام) کی حفاظت و تائید اور امور اختلافیہ اور غلط عقائد کی اصلاح اور ان کا فیصلہ۔گویا قدرت پہلے دن سے ہی سے آپ کو اس منصب کے لئے تیار کر رہی تھی۔کیا تکلف اور بناوٹ سے یہ باتیں پیدا ہوسکتی ہیں؟ کس کو خیال تھا کون جانتا تھا کہ یہ بچہ ان صفات عالیہ کا مالک ہو کر ان نعمتوں کا وارث ہو گا جو خدا تعالیٰ کے نبیوں کو دی جاتی ہیں اور یہ اس عظیم الشان منصب پر مامور ہو جائے گا جس کے لئے دوسرے انبیاء کے وعدے ہیں اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے متعلق بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں۔اگر کوئی شخص قلب سلیم