حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 249 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 249

حیات احمد ۲۴۹ جلد اول حصہ دوم شعبہ خُلق کا اس کو پسند نہیں۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایک سخت بیدین ہندو سے اس عاجز کی گفتگو ہوئی اور اس نے حد سے زیادہ تحقیر دین متین کے الفاظ استعمال کئے۔غیرت دینی کی وجہ سے کسی قدر اس عاجز نے وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ پر عمل کیا۔مگر وہ چونکہ ایک شخص کو نشانہ بنا کر درشتی کی گئی تھی۔اس لئے الہام ہوا کہ :- تیرے بیان میں سختی بہت ہے۔رفق چاہئے رفق“۔اگر ہم انصاف سے دیکھیں تو ہم کیا چیز ہمارا علم کیا چیز ؟ اگر سمندر میں ایک چڑیا منقار مارے تو اس سے کیا کم کرے گی۔ہمارے لئے یہی بہتر ہے کہ جیسے در حقیقت 66 ہم خاکسار ہیں۔خاک ہی بنے رہیں۔ہمارے لئے ایسی عزت سے بے عزتی اچھی ہے۔جس سے ہم مورد عتاب ہو جائیں۔“ اس سے آپ کی صاف دلی بھی عیاں ہے کہ ایک امر جو آپ کی سختی کا مظہر تھا اس کے بیان کرنے میں آپ نے مضائقہ نہیں فرمایا۔لالہ ملا وامل صاحب سے یہ ختی چونکہ خدا تعالیٰ ہی کی رضا کے لئے تھی اور اس کے دین متین کی غیرت کے لئے تھی۔اس واسطے جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو رفق کی ہدایت فرمائی۔تو پھر آپ نے لالہ ملا وامل صاحب کے ساتھ نرمی سے پیش آنا پسند فرمایا۔اور ان کو بلوالیا۔وہ بھی چونکہ محسوس کرتے تھے کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ مذہبی غیرت سے کہا ہے نہ کسی ذاتی بغض یا عداوت کی بنا پر اس لئے قطعاً اس کو بُرا نہیں منایا۔اور پھر بلانے پر چلے گئے اور اسی طرح بے تکلفی سے جاتے رہے۔قیام سیالکوٹ کے مزید واقعات اور بر دینار اور معجز نما زندگی کے عجائبات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی ایک اعجازی زندگی ہے۔آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اسی طرح ہوتا رہا ہے جس طرح پر انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔چونکہ آپ دنیا