حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 15 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 15

حیات احمد ۱۵ جلد اوّل حصہ اوّل الہام ہوا۔سَلْمَانَ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ۔پھر ایک مرتبہ الہام ہوا۔لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ اَبْنَاءِ الْفَارِسِ۔خدا تعالیٰ کی اس وحی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی تائید اور تصدیق کر دی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فارسی الاصل ہونے پر ایک ایسی شہادت قائم کی جس کو کوئی سلیم الفطرت رد نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود اس کے متعلق خود فرماتے ہیں۔عرصہ سترہ یا اٹھارہ برس کا ہوا کہ خدا تعالیٰ کے متواتر الہامات سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ میرے باپ دادے فارسی الاصل ہیں۔وہ تمام الہامات میں نے اُن ہی دنوں میں براہین احمدیہ کے حصہ دوم میں درج کر دئے تھے۔جن میں سے میری نسبت ایک یہ الہام ہے خُذُوْا التَّوْحِيْدَ التَّوْحِيْدَ يَا ابْنَاءَ الْفَارِسِ یعنی تو حید کو پکڑو۔توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو! پھر دوسرا الہام میری نسبت یہ ہے۔لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ - یعنی اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو یہ مرد جو فارسی الاصل ہے وہیں جا کر اُس کو لے لیتا۔اور پھر ایک تیسرا الہام میری نسبت یہ ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا رَدَّ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ شَكَرَ اللهُ سَعْيَهُ - یعنی جو لوگ کافر ہوئے اس مرد نے جو فارسی الاصل ہے ان کے مذاہب کو رد کر دیا۔خدا اس کی کوشش کا شکر گزار ہے۔یہ تمام الہامات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے آباء اولین فارسی بقیه حاشیه: - قانون ہے۔جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔ہم اس سے پہلے ابھی بیان کر چکے ہیں کہ ایسے اولیاء اللہ جو مامور نہیں ہوتے۔یعنی نبی یا رسول یا محدث نہیں ہوتے اور ان میں سے نہیں ہوتے جو دنیا کو خدا کے حکم اور الہام سے خدا کی طرف بلاتے ہیں۔ایسے ولیوں کو کسی اعلیٰ خاندان یا اعلیٰ قوم کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا سب معاملہ اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے لیکن ان کے مقابل پر ایک دوسری قسم کے ولی ہیں جو رسول یا نبی یا محدث کہلاتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک منصب حکومت اور قضا کا لے کر آتے ہیں اور لوگوں کو حکم ہوتا ہے کہ ان کو اپنا امام اور سردار اور پیشوا سمجھ لیں اور جیسا کہ وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اس کے بعد خدا کے ان نائبوں کی اطاعت کریں۔اس منصب کے بزرگوں کے متعلق قدیم سے خدا تعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ ان کو اعلیٰ درجہ کی قوم اور خاندان میں سے پیدا کرتا ہے حمد اب اس پر ۴۵ سال گزرتے ہیں۔