حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 16
حیات احمد ۱۶ جلد اول حصہ اوّل ت وَالْحَقُّ مَا أَظْهَرَهُ الله کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۶۳۶۶۲ حاشیه در حاشیه ) اب یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود فارسی الاصل ہیں۔لیکن اس وقت تک ہماری تحقیق اس حد تک محدود ہے کہ احادیث میں ایک فارسی الاصل مصلح کے مبعوث ہونے کی خبر تھی۔اور وہ مسیح موعود ہونے والا تھا۔اس کے ساتھ ہی مجھے یہ ظاہر کر دینا مقصود ہے کہ احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ اہل فارس بنی اسحاق ہیں۔اور اس طرح پر وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔اہل فارس بنی اسحاق ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو وعدے اولاد کے متعلق دئے گئے تھے۔وہ حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام کے متعلق جدا جدا اور مشترک برکت کے وعدے تھے۔اور اپنے اپنے وقت پر وہ پورے ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔(1) أَهْلُ فَارِسَ هُمْ وُلْدُ إِسْحَاقَ رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي تَارِيخِهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - یعنی حاکم اپنی تاریخ میں حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں۔کہ اہل فارس حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔(كنز العمال جلد ۶ صفحه ۲۱۵) بقیه حاشیه :- تا ان کے قبول کرنے اور ان کی اطاعت کا جوا اٹھانے میں کسی کو کراہت نہ ہو۔اور چونکہ خدا نہایت رحیم و کریم ہے۔اس لئے نہیں چاہتا کہ لوگ ٹھوکر کھاویں اور ان کو ایسا ابتلا پیش آوے جو ان کو اس سعادت عظمی سے محروم رکھے کہ وہ اس کے مامور کے قبول کرنے سے اس طرح پر رک جائیں کہ اس شخص کی پیچ قوم کے لحاظ سے تنگ اور عاران پر غالب ہو اور وہ دلی نفرت کے ساتھ اس بات سے کراہت کریں کہ اس کے تابعدار بنیں اور اس کو اپنا بزرگ قرار دیں۔اور انسانی جذبات اور تصورات پر نظر کر کے یہ بات خوب ظاہر ہے کہ یہ ٹھوکر طبعاً نوع انسان کو پیش آ جاتی ہے۔مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تمیں چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے 66 كنز العمال كتاب الفضائل من قسم الاقوال الفرس من الاكمال “ حدیث نمبر ۳۷۵۹۔مطبوعه مطبع دائرة المعارف النظامية حيدر آباد سن اشاعت ۱۳۱۳ھ