حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 14
حیات احمد ۱۴ جلد اول حصہ اوّل ہاتھ رکھ کر صراحت کر دی کہ یہ اعزاز اور امتیاز جس قوم کو حاصل ہوگا اس کا بانی فارسی الاصل ہوگا۔اور ایسی حالت اور صورت میں کہ ایمان دنیا سے اٹھ جائے گا۔حتی کہ وہ اتنا دور چلا جائے گا کہ گویا ثریا تک چلا جائے گا۔تب نسل فارس کا ایک شہوار کھڑا ہو گا اور وہ اُسے دُنیا پر واپس لائے گا۔اور جب ہم قرآن مجید کی تفسیر کی طرف توجہ کرتے ہیں تو وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة (٢) کے نیچے یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ یہاں مسیح موعود کی جماعت مراد ہے۔پس اگر ان احادیث کو قرآن مجید کی اس آیت کی تفسیر کے ساتھ ملایا جائے۔تو یہ بات بہ بداہت ثابت ہوتی ہے کہ آنے والا مسیح موعود فارسی الاصل ہوگا۔خدائی وحی سے فارسی الاصل ہونے کی تائید یہاں تک تو احادیث سے یہ پتہ ملتا ہے کہ مسیح موعود فارسی الاصل ہو گا۔اب ہم حضرت مسیح موعود کی وحی کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ایسے وقت اور ان حالات میں جبکہ آپ نے کوئی دعوی دنیا میں مشتہر نہیں کیا۔خدا تعالیٰ کی وحی جو مسیح موعود پر اتری۔تو وہ اکثر انہیں الفاظ میں نازل ہوئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کو اشارہ کر کے فرمائے تھے۔براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۲ میں یہ الہام درج ہے۔خُذُوا التَّوْحِيدَ التَّوْحِيْـدَ يَا أَبْنَاءَ الْفَارِسِ۔پھر ایک مرتبہ بقیه حاشیه : - ہوں اور اپنے بندوں کے انقلابات کو خدا ہی جانتا ہے دوسروں کو کیا خبر ہے۔سو عام طور پر پنجہ مارنے کے لائق یہی آیت ہے کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَنفُسِكُمْ (الحجرات:۱۴) جس کے یہ معنے ہیں کہ تم سب میں سے خدا کے نزدیک بزرگ اور عالی نسب وہ ہے جو سب سے زیادہ اس تقویٰ کے ساتھ جو صدق سے بھری ہوئی ہو خدا تعالیٰ کی طرف جھک گیا ہو اور خدا سے قطع تعلق کا خوف ہر دم اور ہر لحظہ اور ہر ایک کام اور ہر ایک قول اور ہر ایک حرکت اور ہر ایک سکون اور ہر ایک خُلق اور ہر ایک عادت اور ہر ایک جذ بہ ظاہر کرنے کے وقت اس کے دل پر غالب ہو رہی ہے۔جو سب قوموں سے شریف تر اور سب خاندانوں سے بزرگتر اور تمام قبائل میں سے بہتر قبیلہ میں سے ہے اور اس لائق ہے کہ سب اس کی راہ پر فدا ہوں۔غرض شریعت اسلامی کا یہ تو عام قانون ہے کہ تمام مدار تقویٰ پر رکھا گیا ہے لیکن نبیوں اور رسولوں اور محدثوں کے بارے میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں۔اور تمام قوموں کے لئے واجب الاطاعت ٹھہرتے ہیں قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک خاص