حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 231
حیات احمد ۲۳۱ جلد اول حصہ دوم مگر اس سے پہلے کہ میں ان کہانیوں میں سے بعض کو یہاں درج کروں۔اس امر کا بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کہانیوں کے ذریعہ تبلیغ اور تلقین آپ کی فطرت میں اسی طرح واقع تھا جس طرح انبیاء علیھم السلام کی فطرت میں ہوتا ہے اور خصوصیت کے ساتھ حضرت مسیح ابن مریم کی تو عادت تھی کہ ہر ایک بات تمثیل ہی میں کہتے۔انجیل اس کے لئے بہترین نمونہ موجود ہے بلکہ ایک مرتبہ حضرت مسیح ابن مریم سے کسی نے تمثیل کے متعلق سوال کیا تو اس کا جواب دیتے وقت بھی آپ نے تمثیل ہی شروع کر دی۔حقیقت الامر یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض دنیا میں نیکی اور تقویٰ کا پیدا کرنا ہوتا ہے۔اور یہ امر جس قدر شواہد اور نظائر سے پیدا ہو سکتا ہے محض قیاسات اور تصورات سے پیدا نہیں ہوتا ور نہ چاہیئے تھا کہ فلاسفر زیادہ متقی اور دیندار ہوتے۔اس غرض کے لئے انبیاء علیہم السلام صلحاء اور نیکو کار لوگوں کے تذکروں سے لوگوں کو نیکی اور خدا پرستی کی طرف بلاتے ہیں۔اور بدکاروں اور منکرین نبوت کے حالات اور انجام سے ڈراتے ہیں۔قرآن مجید نے آپ اسی طرز کو اختیار کیا اور کہنے والے منکرین نے اسے اَسَاطِيرُ الأَوَّلین کہہ دیا۔پس نبیوں کی غرض کہانیوں سے یہ کبھی نہیں ہوتی کہ وہ خالی بیٹھے ہوئے بیکار آدمیوں کی طرح نعوذ باللہ تضیع اوقات کریں بلکہ ان کا مقصد وحید صرف یہی ہوتا ہے اِس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فطرت میں تبلیغ اسلام کا جوش اس قدر تھا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات مجھے خطرہ ہوتا ہے کہ اس جوش میں میرا دماغ نہ پھٹ جاوے اور تبلیغ اور تلقین ہدایات اسلام کے لئے جو طریق آپ موزوں اور مناسب پاتے اس کو اختیار کرتے۔عام فہم طریق کہانیوں اور تمثیلوں کا یہی ہے اس لئے یہ آپ کو ہمیشہ سے پسند تھا۔اور اپنی تقریروں میں بھی تذکرۃ الاولیاء کی بعض حکایتوں کو بیان فرماتے۔لالہ ملاوا مل صاحب وغیرہ آنے والے