حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 232 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 232

حیات احمد ۲۳۲ جلد اول حصہ دوم مؤلفۃ القلوب تک ہی یہ سلسلہ محدود نہ تھا بلکہ گھر میں بھی تبلیغ کے لئے اس طریق کو اختیار کرتے۔اگر چہ ترتیب واقعات کے لحاظ سے شاید مجھے یہ بات بہت دور جا کر لکھنی چاہئے تھی مگر واقعات کی مناسبت کے لئے اس جگہ ہی اس کا بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی (جن کے عہد سعادت میں یہ سیرت میں مرتب کر رہا ہوں ) کو بھی آپ کہانیاں سنایا کرتے تھے اور ان کہانیوں سے آپ کی غرض شروع ہی سے صاحبزادہ موصوف کی دینی تربیت تھی آپ چاہتے تھے کہ اس کے دل و دماغ میں ان خیالات اور حالات کا ذخیرہ ہو جو انسان کو خدا پرست زندگی کی طرف لے جاتے ہیں ۱۸۹۸ء میں جب کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی عمر کوئی نو برس کی تھی اور خدا تعالیٰ کے محض فضل وکرم سے خاکسار کو یہ عزت حاصل تھی کہ صاحبزادہ صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کے ماتحت میرے گھر پر ابتدائی تعلیم کے لئے تشریف لایا کرتے تھے مجھے حضرت کی اندرونی زندگی کے متعلق خصوصیت سے دلچسپی ہوتی۔میں نے صاحبزادہ صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت صاحب گھر میں کبھی کبھی وعظ کیا کرتے ہیں اور سردیوں کے دنوں میں تو عموماً ہر روز۔اسی سلسلہ میں میں نے اُن سے وعظ کا مضمون دریافت کیا تو انہوں نے بعض وہ کہانیاں سنائیں جو آپ سنایا کرتے تھے۔سلسلہ مخن ذوق میں دراز ہو رہا ہے میں پھر اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تقریروں میں کہانیوں کے ذریعہ بچوں، عورتوں اور غیر مذاہب کے لوگوں کو تبلیغی دلچسپی پیدا کرتے تھے۔لالہ ملاوامل صاحب نے جو کہانی بیان کی ہے اس کے مضمون اور مفہوم کو سن کر مجھے بڑی خوشی ہوئی کیونکہ میں نے مثنوی مولانا روم میں وہ کہانی ایک سکھ آشنا کو پڑھائی تھی۔میں اس کہانی کو اور ان کہانیوں کو جو حضرت صاحبزادہ صاحب کے ذریعہ مجھے ملی تھیں یہاں درج کرتا ہوں۔لالہ ملا وامل کو سنائی ہوئی کہانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان کہانیوں میں سے ایک کہانی جو لالہ ملاوامل وغیرہ کی صحبتوں میں سنائی جاتی تھی ایک کہانی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک نوجوان نے کہا کہ