حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 229 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 229

حیات احمد ۲۲۹ جلد اول حصہ دوم ذریعہ تبلیغ اسلام اور تعلیم اخلاق کا کام لینا چاہتے تھے۔یہ کہانیاں جو آپ کہتے عموماً مثنوی مولانا روم کی حکایتیں ہوتی تھیں اور ان سے نتائج بھی نکالا کرتے تھے اور یا تذکرۃ الاولیاء کے تذکرے۔اس کے سوا ان کہانیوں میں اور کچھ نہ ہوتا تھا۔گہری نظر سے دیکھا جائے تو تکلیف سے نہیں بلکہ صاف صاف پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ان رفقاء کو جو آپ کی صحبت میں آتے تھے۔اسلام کی خوبیوں سے واقف و آگاہ کر کے دائرہ اسلام میں لانے کے خواہشمند تھے اور چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔ایک موقع شناس اور باخبر مبلغ کی طرح ( جو صرف انبیاء علیھم السلام کے رنگ میں رنگین ہو ) حکمت اور موعظہ حسنہ سے انہیں اسلام کی صداقت سے آگاہ کرنا چاہتے تھے چونکہ لالہ ملا وامل صاحب کی علمی واقفیت بہت محدود تھی اور اسی حیثیت سے وہ مذہبی معارف اور حقائق سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔کہانیوں سے فطرتا انسان مالوف ہوتا ہے اس لئے آپ نے تبلیغ کے لئے کبھی کہانیوں کو اختیار کیا اور کبھی علمی اور عقلی پہلو سے کام لیا۔اور پھر نور نبوت سے مذاق پیدا کرنے کے لئے ان لوگوں کو رویائے صالحہ سے دلچسپی کا سلسلہ شروع کیا۔آپ کی غرض ان ملاقاتوں، ان کہانیوں اور ان تعلقات کے بڑھانے سے بجز اس کے اور کوئی نہیں پائی جاتی کہ آپ دل سے اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے شیدائی تھے اور چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح ان نو جوانوں کو ہدایت اسلام سے بہرہ یاب دیکھیں۔ہدایت پانا یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور لالہ ملا وامل صاحب کی ملاقات اور تعلقات میں جو بات بدیہی طور پر نظر آتی ہے وہ تبلیغ اسلام ہی ہے۔سب سے پہلی ملاقات اور محض ناواقفیت کی ملاقات اور اس میں بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ آپ نے تبلیغ ہی شروع کر دی۔لالہ ملا وامل صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ سمجھا تھا کہ شاید مسلمانوں کے ہاں عشاء کی نماز سے پہلے کسی دوسرے کو تبلیغ اسلام کرنا ایک ضروری فرض ہے کیونکہ مرزا صاحب نے نماز سے پہلے اس کام کو نہایت ضروری سمجھا۔لالہ ملا وامل صاحب سے ملاقات اور