حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 228
حیات احمد ۲۲۸ جلد اول حصہ دوم خالص تھا دوسرے لوگوں نے بھی مانگ شروع کر دی اور اس طرح پر میری دوکان عطاری کی چمک اٹھی۔حضرت مرزا صاحب کا معمول تھا کہ وہ ظہر کی نماز بڑی مسجد میں پڑھ کر ٹہلنے لگتے اور میں اپنی دکان پر سے جب دیکھتا کہ آپ ٹہل رہے ہیں تو سمجھ لیتا کہ نماز سے فارغ ہو گئے ہیں چنانچہ میں بھی چلا جاتا اور برابر عصر تک وہ ٹہلتے رہتے اور گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہر قسم کی باتیں ہوا کرتیں مگر ان میں کوئی بات کبھی ایسی نہیں ہوتی تھی جو اخلاقی یا عرفی رنگ میں معیوب اور و قابل اعتراض ہو۔عام طور پر مذہبی تبادلہ خیالات ہم لوگ کرتے۔عصر کی نماز کے وقت میں چلا آتا اور وہ نماز پڑھ کر تشریف لے جاتے۔پھر یہ وقت تبدیل ہو گیا فجر کی نماز کے بعد حضرت مرزا صاحب کی عادت تھی کہ تھوڑی دیر سو جایا کرتے اور اس کو ٹوری ڈھونکا کہا کرتے تھے اس نوری ڈھونکے کی حالت میں ہم دکان کھولنے سے پہلے وہاں جاتے اور آپ کو جا جگاتے۔وہ آواز دینے پر فوراً بلاکسی اظہار ناراضگی یا تکاہل کے اٹھ بیٹھتے اور دریافت کرتے کہ کیا کیا خواب آئی ہے۔اگر کسی کو کوئی خواب آئی ہوتی یا انہیں آئی ہوتی تو بیان کرتے اور پھر تھوڑی دیر ٹھہر کر ہم آ کر اپنی دکانیں کھولتے سردیوں کے دنوں میں ۸ یا ۹ بجے کے قریب اور گرمیوں میں صبح ہی سیر کو چلے جاتے اور دو اڑھائی میل تک ہوا خوری کے لئے جاتے اور اس عرصہ میں واقعات جاریہ اور مذہبی معاملات پر تبادلہ خیالات ہوتا تھا۔کبھی کبھی تفریح مگر نہایت پاک اور بے ضرر تفریح کی باتیں بھی ہوتی رہتی تھیں (انوسینٹ ریکری ایشن۔ایڈیٹر ) بعض اوقات جب ہم مل کر بیٹھتے تو کہانیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا اور کہانیاں سنائی جاتی تھیں۔۔ایڈیٹر لالہ ملا وامل صاحب نے میری تحریک پر جو کہانیاں سنائی ہیں جو حضرت صاحب انہیں سناتے تھے وہ میں بعد میں درج کروں گا۔قارئین کرام کو معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ ابتدائی مجالس کسی قصہ گو یا افسانہ گو کی مجلس کا رنگ نہ رکھتی تھیں اور ان داستانوں کے سنانے سے آپ کی غرض تضیع اوقات نہ تھی اور نہ محض بچوں کی طرح دل بہلاؤ۔بلکہ آپ ان داستانوں کے