حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 222
حیات احمد ۲۲۲ جلد اول حصہ دوم دیا اور درخواست کر دی کہ میں نہیں ہونا چاہتا۔جس بات نے آپ کو اسیری سے دست بردار کر دیاوہی بات اصل مغز اور روح ہے آپ نے اسیسری کو اس لئے ناپسند کیا کہ مقدمات قتل میں اسیسر اپنی رائے زنی سے ایک ذمہ واری عند اللہ و عند الناس اپنے اوپر لیتے ہیں۔وہ اصل حالات سے محض بے خبر ہوتے ہیں واقعات کا ایک سلسلہ ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جس کے متعلق انہیں کوئی یقینی اور صحیح علم نہیں کہ اس میں حق اور باطل کی آمیزش کہاں تک ہے اس لئے اگر ایک شخص کے جو فی الواقعہ بے گناہ ہے قاتل اور خونی ہونے کی رائے دیتے ہیں تو بے گناہ کو پھانسی دینے کے الزام میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔اور اگر گنہگار کو بے گناہ قرار دیتے ہیں تو ظَهِيرًا لِلْمُجْرِمِین ہوں گے۔اگر چه اجتہادی نقطہ نگاہ سے اس سوال کا کوئی اور پہلو بریت کا ہو مگر حضرت مسیح موعود کی تقوی شعاری اور احتیاط کو دیکھنا چاہیئے کہ آپ نے ایک ادنی سے احتمال کی بناء پر بھی پسند نہ کیا کہ دنیا داروں کے نزدیک محبوب اور امتیاز کے نشان کو اختیار کریں۔جس کے لئے اکثر آدمی روپیہ خرچ کرتے اور حصول کے لئے ہر قسم کی کوشش کرتے ہیں اسے وہ محض اس احتمال پر جس کی تاویل ہو سکتی ہے چھوڑ دیتا ہے کہ مبادا کسی بے گناہ کے قتل یا گنہگار کی حمایت نہ ہو جائے۔جس طرح پر مدرسی کو آپ نے ایک نہایت باریک رعایت تقویٰ کی وجہ سے ناپسند کیا اسی طرح اسیسری کو بھی اسی رعایت تقویٰ سے نا پسند کیا اور انکار کر دیا۔حضرت مسیح موعود بطور ایک کمیشن کے حضرت مرزا صاحب ان ایام میں جبکہ آپ اپنے والد صاحب مرحوم کے حکم کی تعمیل میں زمینداری معاملات کی نگرانی اور پیروی میں حصہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔ایک مرتبہ ایک ناطہ کے مقدمہ میں کمیشن مقرر کئے گئے۔میراں بخش نام ایک مغل آپ کے ساتھ تحقیقات کے لئے موقعہ پر گیا۔حضرت مرزا صاحب نے سواری کا گھوڑا اور اس کے لئے دانہ بھی لے لیا۔اور اپنی روٹی بھی ساتھ ہی لے لی۔بظاہر گھوڑا سواری کے لئے لیا مگر اس پر سوار نہیں ہوئے پیدل ہی چلے گئے اور